ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 494
494 الْعَظِيمِ پاک ہے میرا رب پاک ہے میرا رب پاک ہے میرا رب اور بڑی عظمتوں والا ہے۔بڑی عظمتوں والا ہے۔بڑی عظمتوں والا ہے۔پاک کن معنوں میں ہے آپ کا رب پاک کن معنوں میں ہے۔عظمتوں والا کن معنوں میں ہے اور آپ کا رب کن معنوں میں عظمتوں والا ہے۔اس میں آپ کے ساتھ نسبتیں قائم ہو گئیں اور ایک اور مضمون نفس کے تجزیہ اور تزکیہ کا شروع ہو گیا۔آپ کن باتوں سے پاک ہیں۔کن باتوں سے پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر بعض باتوں میں آپ پاک ہیں یعنی اپنی توفیق کے مطابق اور بعض باتوں میں پاک ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ کو حق ہے کہ کہیں سُبحان ربی میرا رب پاک ہے تاکہ یہ کہہ کر خدا سے مدد مانگیں۔اگر آپ میں عظمت کے نشان پائے جاتے ہیں یا کچی عظمت کے خواہاں ہیں اور اس کی طرف حرکت کر رہے ہیں تو آپ کو یہ حق ہے کہ کہیں سُبحان ربی العظيم ہاں میرا رب عظیم ہے۔اس نے مجھے عصمتیں عطا کی ہیں۔وہ مجھے عظمتوں کی طرف لیکر روانہ ہوا ہے۔پس دیکھیں کہ مضمون کو ذرا سا بدل کر دیکھنے سے زاویہ بدلنے سے نئے مضامین کے کیسے جہان آپ کے سامنے کھلتے پہلے جاتے ہیں۔صرف زبانی حمد کافی نہیں اس کا عمل میں ڈھلنا ضروری ہے اس کے بعد پھر وہ حرکت ہے جہاں اللہ اکبر کی بجائے ایک اور مضمون شروع ہوتا ہے وہ سمع الله لِمَن حَمِدَہ اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی حمد کی۔اگر کہیں استثناء کرنا تھا تو عام انسانی عقل یہ سوچتی ہے کہ یہاں سورہ فاتحہ کا مضمون جو حمد میں کمال درجے کا مضمون ہے جو درجہ کمال کو پہنچا ہوا مضمون ہے۔جہاں وہ مضمون ختم ہوا تھا اس کے بعد آنا چاہیے تھا۔سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ الله نے اس کی سن لی جس نے اسکی حمد کی لیکن اس کو بعد میں کیوں ڈال دیا گیا یعنی رکوع کے بعد کیوں رکھا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حمد بننے کے لئے صرف زبان کی حمد کافی نہیں۔زبان کی حمد کو خدا نہیں سکتا جب تک اس حمد کے نتیجہ میں اطاعت کی روح پیدا نہیں ہوتی اور وہ اطاعت اعمال میں نہیں ڈھلتی۔اس لئے وہ جو خدا کی تعریفوں کے زبانی جمع خرچ کرتے ہیں ان کی حمد گویا خدا نے سنی ان سنی کر دی۔انسان کی زندگی میں روز مرہ بعض ایسے