ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 407
407 کھلی ہوئی مسکراتا ہوا ہنستا ہوا بہت خاص خوشی کے مزاج کے ساتھ داخل ہوا اس کا نام نصیر تھا۔اس کو اس حال میں دیکھ کر میں نے کہا۔نصیر! کیا بات ہے آج تم نے بہت کچھ پا لیا ہے کہ تم اس طرح خوش ہو رہے ہو۔اس نے کہا یہی سوال حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بھی مجھ سے کیا تھا اور ان کو بھی میں نے یہی جواب تھا کہ آج ہم نے خدا کی راہ میں سب کچھ کھو دیا ہے۔یہ خوشی ہے۔چاولوں کی ملیں اور کارخانے تھے۔خدا کے فضل سے بڑا کھاتا پیتا گھر تھا۔انہوں نے بتایا کہ سارا دن ٹرک لولد کے بوریاں ڈھوتے رہے (ڈھونا پنجابی میں سامان لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کو کہتے ہیں) اور کسی نے بھی پوچھا نہیں اور نہ پولیس آئی اور نہ کسی کو پرواہ ہوئی یہاں تک کہ سب کچھ صاف ہو گیا۔کارخانہ بھی بریار دیواریں منهدم کردی گئیں اور میں اب اس لئے خوش ہوں کہ بہت مزے میں ہوں کہ اب سب کچھ اللہ نے پھر دوبارہ دیتا ہے۔ہم نے تو جو کچھ تھا وہ سب اللہ کے سپرد کر دیا ہے۔۔پس وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کا یہ مطلب ہے۔اس کے برعکس وہ لوگ جن میں ایمان کی کمی ہوتی ہے ان کو آپ دیکھیں چھوٹا سا نقصان پہنچے تو جان کا زیاں کر بیٹھتے ہیں۔وہ اس غم میں گھل گھل کر اپنی جان ضائع کر دیتے ہیں تو کتنا فرق کتنے عظیم الشان بندے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں۔اور آپ ہی کے تربیت یافتہ ہیں۔خدا تعالیٰ ان کے متعلق فرما رہا ہے۔ان الذین قالوا ربنا اللہ دیکھو کیسے شاندار بندے ہیں میرے جب وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے تو پھر کسی اور کو رب نہیں مانتے۔یہاں ربنا اللہ میں یہ مضمون ہے۔رب کا مطلب ہے پرورش کرنے والا۔سب کچھ عطا کرنے والا۔زندگی کے گزارے دینے والا۔اونی حالتوں سے ترقی دے کر اعلیٰ حالتوں کی طرف لے جانے والا۔رب تو خدا کو کہیں مگر دنیا کی طاقتوں سے ڈر جائیں اور ان کو رب سمجھ لیں خدا فرماتا ہے ایسا نہیں ہوتا۔میرے بندے وہی ہیں جو میرے رب کہنے کے بعد پھر میرے ہو رہتے ہیں اور ان کی نشانی کیا۔ہے۔لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ