ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 385
385 متمنی نہیں ہوں۔مجھ سے آئندہ نیک نسلیں جاری ہوں اور دیکھیں کتنی گہری دعا تھی کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم بھی آپ ہی کی نسل میں پیدا ہوئے۔پس محض دعا کے لفظوں کی بات نہیں ہوا کرتی۔خدا کی نظر دعا کی گہرائی پر بڑتی ہے۔دل میں کتنی گہرائی سے اٹھی ہے۔کسی جذبے کے ساتھ اٹھی ہے۔کس درد کے ساتھ اٹھی ہے۔کس اخلاص اور ایثار کی روح کے ساتھ اٹھی ہے۔یہ ساری باتیں ہیں جو دعا کو طاقت بخشتی ہیں اور پھر نیک اعمال دعا کو طاقت بخشتے ہیں۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ خدا ہی کی طرف رفع کرتا ہے مگر نیک اعمال اس کو طاقت مہیا کرتے ہیں۔پمپ کر کر کے نیک اعمال اس کلمہ کو اوپر اٹھاتے نہیں تو اسی طرح دعاؤں کا حال ہے۔یہ ساری باتیں دل کے نیک اور نیک اعمال مل کر دعاؤں میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا کر دیتے ہیں اور قوموں کے مستقبل ان دعاؤں سے بنتے ہیں۔ہے۔پھر ایک دعا حضرت سلیمان کی ہے جو سورۃ ص آیت ۳۶ میں بیان ہوئی وهب بن ملحا اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما ایک ایسا عظیم ملک عطا فرما لا يتبون لأحد من بعدي کہ میرے بعد پھر کبھی کسی کو نصیب نہ ہو۔إنك أنت الوهاب یقینا تو بہت ہی مہربانی کرنے والا ہے۔بہت ہی زیادہ پیار کا سلوک فرمانے والا ہے۔قَالَ رَبِّ اغفرلي اس دعا کے متعلق کئی علماء بخشیں اٹھاتے ہیں کہ ایسی دعا مناسب بھی ہے کہ نہیں۔درست ہے کہ نہیں کہ میرے بعد کسی کو دیسی سلطنت نہ ملے۔یہ تو بظاہر ایک خود غرضی کی دعا ہے۔لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری اولاد میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھ اور بڑھا چڑھا اور اس شان کو بڑھاتا رہے۔حضرت سلیمان نے یہ کیسی دعا کی اور پھر دعا بھی ایسی جو بد دعا بن کر بعد میں ظاہر ہوتی ہے چنانچہ حضرت سلیمان کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے بعد نہ نسل میں نبوت رہی، نہ اس رنگ میں وہ بادشاہت رہی۔حضرت سلیمان کا دور بنی اسرائیل کی حکومت کا سب سے شاندار دور تھا۔آپ نے آنکھیں بند کیں تو فتنے شروع ہوئے اور سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی اور آپ کی نسل کے حصے میں چھوٹی سلطنت آئی لیکن فلسطین اسی کا حصہ تھا۔اسی کو جوڑا کہا جاتا ہے۔ایک شمالی