ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 386
386 سلطنت تھی جس میں بنی اسرائیل کے دس قبائل آباد تھے اور ایک جنوبی جس میں دو تھے۔ان میں حضرت سلیمان" کا اپنا قبیلہ بھی تھا۔چنانچہ آپ کے بیٹے کے پاس بالآخر صرف وہی بادشاہت رہ گئی جو دو قبیلوں کی راجدھانی پر مشتمل تھی اور وہ دس قبیلے وہ ہیں جن کے متعلق بعد میں حضرت عیسی علیہ السلام نے یہ کہا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کی طرف جانے والا ہوں۔اصل مضمون تو دعا کا ہے مگر ضمنا ساتھ ساتھ میں آپ کو یہ باتیں بھی سمجھاتا جاتا ہوں کیونکہ ہمارے جماعتی محاورے میں اکثر گمشدہ بھیڑوں کا ذکر ملتا ہے تو وہ کیا تھیں اور کیسے بنیں۔وہ دس قبائل جو شمال کے قبائل تھے ان کی ایک الگ سلطنت قائم ہوئی اور انہی کی طرف حضرت مسیح کا اشارہ ہے۔گمشدہ ان کو اس لئے کہا گیا کہ ۶۰۰ سال کی حکومت کے بعد یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کے بعد جب بنی اسرائیل کو حکومت ملی تو اس کے پورے ۶۰۰ سال کے بعد بابلیوں نے ان پر حملہ کیا اور آجکل کے کرد بھی اکثر باہلی علاقہ سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔اس زمانے میں بابلیوں کی ایک بہت شاندار سلطنت تھی اور ان کو بالکل تہس نہس کر دیا۔کلیہ ملیا میٹ کر کے ان کو ملک بدر کر دیا اور یہ ساری دنیا میں بکھر گئے۔بعض روایات کے مطابق مارا تو بہت بری طرح لیکن پوری طرح نکالا نہیں بلکہ ایک سو سال بعد جبکہ جنوبی عراق کی طرف سے حملہ ہوا ہے اس وقت ان کو آخری دفعہ کلیہ نکال دیا گیا۔مگر بہر حال حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام کے زمانے میں آپ کی آمد سے کئی سو سال پہلے یہ لوگ دنیا میں بکھر چکے تھے اور ان کا وہاں کوئی وجود نہیں تھا۔حضرت موسی سے حضرت عیسی کا فاصلہ ۱۳۰۰ سال کا ہے۔یہ بات احمدیوں کو خصوصاً یاد رکھنی چاہئے۔پس حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام گمشدہ بھیڑوں کے بکھرنے کے ۶۰۰ سال کے بعد ظاہر ہوئے ہیں۔یہ اس لئے یاد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کی امت کے مسیح تھے۔آپ بھی پوری ۱۳ صدیوں کے بعد ظاہر ہوئے ہیں اور مماممت مسیح کی لوگ بات کرتے ہیں تو فیتے سے آپ زمانے کو ناپ کر دیکھ لیں بعینہ