ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 384
384 کی اور آپ کو مٹانے کی کوشش کی۔پس جو خدا کے پاک بندوں کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے بالآخر ضروری نہیں کہ ہمیشہ اسی وقت لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدا یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ان کو مٹا دیا جائے اور پھر ان کو کوئی بچا نہیں سکتا۔مرزا نظام دین کا ایک بیٹا زندہ رہا جن کا نام مرزا گل محمد ہے اور ان کی نسل میں اب تک احمدیت ہے اور خدا کی یہ شان ہے کہ ان کو اس لئے زندہ رکھا گیا کہ انہوں نے احمدی ہو جاتا تھا۔کوئی شخص ایسا زندہ نہیں رہا جس نے احمدی نہیں ہونا تھا۔اسی کو زندہ رکھا گیا جس نے احمدی ہونا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے اپنے بیٹوں میں سے دو تھے۔ایک مرزا سلطان احمد۔ایک مرزا فضل احمد۔اس وقت دونوں میں سے کوئی بھی آپ پر ایمان نہیں لایا تھا اسی کو زندہ رکھا گیا اور اسی کی نسل جاری رکھی گئی جس نے ایمان لانا تھا یعنی مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد۔اسی طرح بے اولاد لاولد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔بہت ہی تفصیل کے ساتھ میں نے جائزہ لیا ہے ہر ہر واقعہ میں ایک عظیم نشان پوشیدہ ہے۔ایک صاحب اولاد ہونے کی طاقت رکھتے تھے۔شادی کرنا چاہتے تھے لیکن دماغ میں ایسا دورہ پڑا کہ فقیر بن گئے اور فقیر بننے کے بعد خود اپنے آپ کو اولاد کی اہلیت سے ہمیشہ کے لئے محروم کر لیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ بسا اوقات یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہتے تھے کہ ان کی حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے وہ دیواروں سے سر ٹکرائیں گے۔کہا کرتے تھے میں نے اپنے اوپر کیا کر لیا ہے کیا ظلم کر بیٹھا ہوں۔کاش مجھ میں طاقت ہوتی اور میں شادی کرتا اور میری اولاد ہوتی لیکن خدا کی تقدیر کے نیچے تھے۔پس اسی طرح حضرت ابراھیم عليه الصلوۃ و السلام کے آباء و اجداد کی نسل کائی جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا۔معلوم ہوتا ہے حضرت ابراھیم کو پتہ تھا مجھے تو یقین ہے کہ خدا نے الہاما خبر دی تھی کہ یہ واقعہ ہے تم جس جگہ سے رخصت ہو رہے ہو اب یہاں کوئی باقی نہیں بچے گا۔یہ ساری نسلیں ختم ہونے والی ہیں۔اس وقت حضرت ابرھیم نے دعا کی۔آپ حب ال من الصَّلِحِينَ اے خدا مجھے نسل دے مگر نیک نسل دے۔بد نسل کا میں