ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 378
378 ہم سے کچھ پوچھا نہ مانگا صرف ہمارا کام کیا اور جا کر پھر بیٹھ گیا لیکن ضرورت مند معلوم ہوتا ہے اس پر ان کے والد جو نبی تھے اور خدا تعالی کی طرف سے نو ریافتہ تھے انہوں نے بھیج کر بلوایا اور بلانے کے بعد ان کو کیا کیا دیا۔ایک امان دی اور کہا کہ اب تم یاد رکھو تم امن میں آچکے ہو۔تمہیں اب کوئی خطرہ نہیں کسی قوم سے۔دوسرے گھر دیا اور ان کو کہا میرے گھر میں رہو۔تیسرے یہ کہا کہ ان دونوں بچیوں میں سے جس کو انتخاب کرتے ہو وہی تمہاری ہے۔چوتھے اس خیال سے کہ یہ ممنون احسان نہ ہو۔یہ نہ سمجھے کہ میں کسی کے احسان کے نیچے آگیا ہوں کہا کہ اس میں کوئی شرمانے کی بات نہیں۔میرا اور تمہارا نوکری کا معاہدہ ہے۔میں ۸ سال یا ۱۰ سال تم سے خدمت لوں گا۔اس لئے کوئی احسان نہیں۔چار باتیں اس طرح حضرت موسی کے لئے اس سے پیدا فرمائیں اور اس کے بعد پھر اسی شادی کے بعد حضرت شعیب کی محبت میں رہنے کے نتیجہ میں بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے دل میں جو نیکی کے بیچ تھے وہ بہت ترقی کر گئے اور بعد میں واپسی کے سفر میں آپ کو نبوت بھی عطا ہو گئی۔پس اس لئے مجھے یہ دعا پیاری ہے کہ اس میں بہت ہی وسیع مضامین ہیں۔تعیین نہیں کی گئی اپنی چالاکیوں سے کہ یہ بھی دے، وہ بھی دے اور وہ بھی وتے۔کھلا خدا پر معاملہ چھوڑ دیا گیا ہے جو کچھ تو جانتا ہے کہ ہمیں ضرورت ہے وہ ہمیں مہیا فرما دے۔اب حضرت لوط کی ایک دعا ہے۔قال رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُقْودين (العنکبوت : (۳۱) اب میرے خدا! اے میرے رب !! مصد قوم کے مقابل پر میری نصرت فرما۔اس دعا کا پس منظر معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔حضرت لوط کی قوم میں جو بدیاں پائی جاتی تھیں۔آپ سب جانتے ہیں اس کو دہرانے کی ضرورت نہیں مگر خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ جب بھی حضرت لوط نے نصیحت فرمائی کہ ان بدیوں سے باز آؤ۔لماعان جَوَاب قَوْمِهِ إِلا أَن قَالُوا انْتِنَا بِعَذَابِ اللوان كُنتَ مِنَ الصديقين (العنکبوت:۳۰) ہر دفعہ وہ تان میں یہی کہتے تھے کہ اچھا پھر جو