ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 379
379 عذاب تیرا خدا ہم پر وارد کر سکتا ہے جاؤ اپنے خدا سے وہ عذاب مانگ لاؤ۔یعنی اب گفت و شنید کی راہیں بند ہو چکی ہیں۔اب نصیحت کے ان قصوں کو چھوڑو۔ہم تمہاری باتیں سنتے سنتے تنگ آگئے ہیں۔نہیں باز آئیں گے۔ہزار دفعہ کہا نہیں باز آئیں گے۔اب تم جاؤ اور اپنے خدا کو کہو کہ وہ عذاب لے آئے جس تم ہمیں ڈراتے ہو۔یہ ہے پس منظر۔نہایت بیہودہ طریق پر متکبر رنگ میں خدا کے عذاب کو چیلنج کیا گیا ہے اور حضرت لوط کے ساتھ بڑا تحقیر کا معاملہ کیا گیا ہے لیکن اس کے جواب میں آپ یہ دیکھیں کہ حضرت لوط نے عذاب کی دعا نہیں کی یہ عرض کیا۔آپ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ اے میرے رب میں تو اب بھی صرف نصرت چاہتا ہوں۔مفسد قوم کے خلاف میری نصرت فرما کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ان کا فساد اصلاح کی حد سے بڑھ چکا ہے۔اس لئے ان پر عذاب آیا مگر حضرت لوط نے براہ راست قوم کے خلاف عذاب طلب نہیں کیا۔حضرت ابراھیم کی ایک دعا سورۃ صافات آیت نمبر 11 میں ہے۔اس میں عرض کرتے ہیں۔رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ - اس سے پہلے کا واقعہ یہ ہے کہ آپ کو قوم نے آگ کا عذاب دینے کی کوشش کی۔بعض مفسرین کا خیال ہے کہ با قاعدہ آگ میں ڈال دیا گیا اور وہ آگ گلزار بن گئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالٰی عنہ اسے روحانی محاوروں کے طور پر بیان فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دراصل ہر نبی کے لئے مخالفت کی ایک آگ بھڑکائی جاتی ہے۔اس آگ ہی میں سے وہ گلزار ظاہر ہوتا ہے جو ان کی مقبولیت کی صورت میں اور ان کی آخری فتح کی صورت میں خدا تعالی کی طرف سے ان کو انعام ملتا ہے۔تو ضرت ابراہیم کے ساتھ جس آگ کا ذکر ہے یہ تمثیلی زبان ہے اس کو ظاہر پر نہیں قبول کرنا چاہئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے اور تحدی کے ساتھ لکھا ہے کہ اگر وہ ظاہری آگ بھی ہے تو ہمیں کامل یقین ہے کہ خدا تعالٰی کی خاص سنت نے اس آگ سے حضرت ابراھیم کو بچا لیا تھا۔گلزار بننے والی یہ باتیں تو مفسرین کے قصے ہیں۔قرآن کریم نے جہاں تک فرمایا ہے وہ بس بڑی