ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 173
173 سے پانی کے نزول کا نظارہ کرتے ہیں۔زمین پر جانوروں کے وجود کو چلتے پھرتے اور نرم نرم گھاس کھاتے یا ویسے رزق کی تلاش میں اڑتے یا دوڑتے پھرتے ہوئے یا سمندر میں تیرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور پھر زمین و آسمان کے درمیان مسخر بادلوں پر غور کرتے ہیں اور ان سب باتوں پر غور کے نتیجے میں وہ ہر چیز کو تیری طرف اشارہ کرتے ہوئے پاتے ہیں۔اور ہر چیز سے یہ پیغام لیتے ہیں کہ ان کا ایک خالق ہے۔ان کا ایک مالک ہے اور وہی راہ ہے جس کی طرف ہر چیز انگلی اٹھا رہی ہے۔پس ان سب نظاروں سے اپنے قرب کی راہیں دیکھنے کی ہمیں توفیق عطا فرما۔ہمیں آله حبا لله بنا دے۔ہماری ہر دوسری محبت پر تیری محبت غالب آجائے۔نہ ماں کی ایسی محبت رہے نہ باپ کی ایسی محبت رہے نہ اولاد کی ایسی محبت رہے نہ بیوی کی نہ عزیزوں اور رشتے داروں کی نہ کسی حسین انسان کی نہ کسی حسین نظارے کی نہ کسی دنیا کی نعمت کی نہ کسی علمی فضیلت کی۔ہر دوسری محبت سے تیری محبت بڑھ جائے۔اے خدا ہمیں حلال طیب رزق عطا فرما اور ان لوگوں کے رستوں پر چلا جو غیر حلال رزق حاصل کر سکتے ہیں لیکن نہیں کیا اور تجھ سے دعا مانگتے ہوئے حلال رزق کی وسعت کی دعا مانگی اور حلال رزق پر ہی قانع رہے اور ان لوگوں کے رستے پر چلا جنہوں نے شیطان کی پیروی سے انکار کر دیا اور پھر ان لوگوں کے رستے پر چلا جنہوں نے جب تجھے آواز دی کہ اے خدا تو کہاں ہے تو تو نے ہر آواز کے مقابل پر یہ جواب دیا اني قريب ان قریب اے میرے پکارنے والے بندے میں تیرے قریب ہوں۔میں تیرے قریب ہوں۔اے خدا!! ہمیں مناسک حج اور عمرہ ادا کرنے والوں کی راہ پر چلا۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا جنہوں نے اپنی زندگی کا زاد راہ تقویٰ بنا لیا اور خواہ ان کے پاس کچھ اور نہیں تھا انہوں نے ہمیشہ اس یقین کے ساتھ تیری راہ میں قدم آگے بڑھائے کہ سب سے زیادہ جس زاد راہ کی ضرورت پیش آسکتی تھی وہ تقویٰ ہے۔چنانچہ تقویٰ سے انہوں نے دامن بھر لیا اور خالی ہاتھ تیری راہ میں سفر اختیار نہیں کیا۔