ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 174
174 اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا کہ جب وہ تیری راہ میں لوگوں کو جانیں دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کو مردہ نہیں کہتے بلکہ وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ زندہ جاوید ہو گئے۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جنہیں تیری خاطر دکھ دیئے جاتے ہیں، ان کے اموال چھینے جاتے ہیں۔ان کی جانیں تلف کی جاتی ہیں۔خوف اور بھوک ان پر مسلط کی جاتی ہے لیکن وہ تیری راہوں کے مسافر میر کے ساتھ انا للہ وانا الیہ جِعُون کہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔تو ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے انہیں ہی بچے اور ہدایت یافتہ قرار دیتا ہے۔اے خدا!! ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جنہوں نے زخم پر زخم کھائے لیکن اس کے باوجود تیری اور تیرے رسول کی ہر آواز پر لبیک کہا۔زخموں سے چور ہونے کے با وجود جب ان کے کانوں میں تیری یا تیرے رسول کی آواز پڑی تو لبیک کہتے ہوئے وہ اس کی طرف لپکے اور ان میں سے وہ خوش نصیب جنہوں نے اپنے اعمال کو کئی طرح سے زینت دی اور تیرا تقویٰ اختیار کیا اور تیری بارگاہ میں عظیم اجر کے لائق ٹھہرے۔انعام پانے والوں کی راہیں یہ واقعات ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔یہ کوئی افسانے اور قصے نہیں ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستے پر چلا جن پر تو نے انعام کیا تو یہ سارے واقعات ایک فلم کی طرح ہمارے ذہن میں گھومنے چاہیں اور وہ شخص جو قرآن کریم کا مطالعہ کرتا ہے اس کے ذہن میں گھومتے ہیں۔یہ نہیں کہ ہر دفعہ جب ہم اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہتے ہیں تو تمارے واقعات اچانک گھوم جاتے ہیں لیکن مختلف کیفیات میں، مختلف حالتوں میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور ہے جو ان حالتوں سے تعلق رکھتا ہے اور ان پر چسپاں ہوتا ہے اس وقت کی دعا کے وقت وہ واقعہ نظر کے سامنے ابھرنا چاہیے اور ہر چیز کے پیچھے ایک تاریخ ہے۔پس جب یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ زخمی ہونے کے باوجود تیری آواز پر لبیک کہتے ہیں تو ایک ایسا ہی واقعہ جنگ احد کے وقت گزرا ہے۔وہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی تاریخ میں شاید کوئی مثال دکھائی نہ دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے