ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 172 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 172

172 گرمی ہو تو وہ ان باتوں سے بے نیاز بڑی محنت کر رہے ہوتے ہیں۔پہلوان ہیں جو اکھاڑوں میں محنت کر رہے ہیں غرضیکہ ایسے لوگ کسی امید پر کہ شاید کبھی ہم اپنے ملک میں نام پیدا کرنے والے بنیں اور اس امید پر کہ شاید کبھی ہم بین الا قوامی مقابلوں میں نام پیدا کرنے والے نہیں ، ساری زندگی محنت میں صرف کرتے ہیں۔پس جب ہم استباق فی الخیرات کی دعا مانگتے ہیں تو یہ بات ہے جس کی دعا مانگتے ہیں کہ اے خدا!! ہمیں محنت کی توفیق عطا فرما، جس کے نتیجے میں ہم اپنے بھائیوں سے نیکیوں میں آگے بڑھنے والے بنیں۔اگر یہ محنت نہیں کریں گے تو یہ توفیق مانگنے کی دعا کا کیا مطلب ہے؟ پس جب استباق فی الخیرات کی دعا مانگیں تو ان سارے نظاروں کو پیش نظر رکھ لیا کریں جہاں مقابلوں میں حصہ لینے والے مختلف رنگ میں مختلف مقامات پر دن اور رات یا کسی اور حصے میں محنتیں کر رہے ہوتے ہیں اور زندگیاں ان محنتوں میں صرف کر دیتے ہیں اور اکثریں جن کی امیدیں پوری نہیں ہوتیں۔بہت ہی کم ہیں جن کی امیدیں پوری ہوتی ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ شاید ہی ہزاروں میں سے ایک ہم بن سکیں جو اپنی آرزوؤں کو پورا ہوتے دیکھ سکیں گے۔پھر بھی وہ محنت کرتے ہیں تو یہ دعا سکھائی کہ اے خدا ! ہمیں ایسی محنتیں کرنے کی بھی توفیق عطا فرما جن کا پھل ہر شخص کو نصیب ہو ہی نہیں سکتا مگر ان نعمتوں کا کچھ نہ کچھ فیض ہر شخص پاری لیتا ہے۔عام دنیا کے انسانوں کے مقابل پر وہ بہتر ہوتا چلا جاتا ہے۔پس استباق فی الخیرات کرنے والوں کی راہ پر ہمیں ڈال دے۔مبر و صلوۃ اور شہادت پر تسلیم و رضا کا رد عمل دکھانے والوں کی راہ پر ڈال۔ایسے لوگوں کی راہ پر ڈال جو ابتلاؤں اور نقصانات پر صبر سے کام لیتے ہیں اور تیرے حضور ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ انا لله وانا إِلَيْهِ رَجِعُونَ کہ سب کچھ گیا لیکن ہم بھی تو خدا ہی کے ہیں ہم بھی چلے جائیں تو کچھ ہاتھ سے دیئے والے نہیں ہوں گے۔انا للہ ہم خدا کے تھے اور خدا کے ہیں اور ہم نے بھی تو آخر اسی کے پاس جاتا ہے جہاں ہمارا سب کچھ جا رہا ہے۔پھر ہمیں ایسے لوگوں کی راہ پر چلا جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرتے ہیں۔لیل و نہار کے اولنے بدلنے کو دیکھتے ہیں۔کشتیوں کا سمندروں میں چلنا دیکھتے ہیں۔آسمان