ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 145
145 اتنا بھاری ہے اور کہاں سے ایسی نیکیاں لائے گا جن کی جزاء خدا نے نہیں دی۔کیونکہ خدا کا تو سارا زندگی کا تعلق ان باتوں کی جزاء دکھائی دیتا ہے جو ہم نے کبھی کی نہیں۔یک طرفہ رحم کا سلوک ہے۔یک طرفہ احسان کا سلوک ہے اور لامتناہی ہے۔ہر ہر سانس خدا کے احسان کا ممنون ہے تو ایسی کیفیت میں حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی کلیتہ " ہتھیار ڈال دے۔خالی ہاتھ اور نہتا ہو جائے اور خدا کے حضور عجز اور انکسار سے دعائیں مانگے۔پس یہ وہ مفہوم تھا جو میں کھولنا چاہتا تھا۔یہ مراد نہیں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ کہ حدیث نبوی کے کسی مضمون کے کوئی مخالف بات سمجھا رہا تھا بلکہ حدیث نبوی کے مضمون کے عین مطابق بات سمجھا رہا تھا اور یہی میں اب بھی سمجھاتا ہوں کہ جب دعائیں کریں تو اس کا آغاز حمد سے ہونا چاہیے اور حمد وہ جو آپ کے دامن کو بالکل خالی کردے۔جو کچھ ہے وہ خدا کے حضور پیش کر دیں۔لیکن دنیا کے کاروبار میں ہمیں بالعموم اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ بعض انسان غفلت میں، بلکہ میں سمجھتا ہوں بہت بڑی تعداد ہے جو خدا کی تعریف بھی کر رہے ہوتے ہیں تو ایسے برتن میں ڈالتے ہیں گویا چھلتی ہے۔نیچے ان کا اپنا برتن ہوتا ہے۔خدا کی تعریف چھلنی میں سے نکل نکل کر ان کے برتن کو بھرتی رہتی ہے اور خدا کی جو چھلنی ہے وہ خالی رہتی ہے۔اس کے بر عکس خدا کے بعض مومن بندے ایسے ہیں جن کی تعریف کی جائے تو یوں لگتا ہے کہ وہ تعریف چھلنی پر گری ہے اور اس کے نیچے خدا کی حمد کا برتن پڑا ہے۔جو تعریف ان کی ہو خواہ ان کا اپنا نفس کسی وقت کرے یا غیر اس کی تعریف کرے وہ ان کے دل کی چھلنی سے نکل کر خدا کے دائمی برتن کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے۔یہ تعریف کا وہ تعلق ہے جسے سمجھنا چاہیے۔اگر ایک انسان صحیح معنوں میں خدا تعالی کا عرفان حاصل کر چکا ہو۔(عرفان تو کوئی انسان صحیح معنوں میں مکمل طور پر کر ہی نہیں سکتا)۔میری مراد یہ ہے کہ عرفان کے حصول کا نکتہ سمجھے جائے تو وہ ہمیشہ محسوس کرے گا کہ جب وہ کسی کی تعریف کرے یا جب کوئی اس کی تعریف کرے تو وہ آخری مقام نہیں ہے بلکہ اس سے پرے ایک مقام ہے اور جو بھی تعریف کا مستحق نظر آتا ہے اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جس کا وہ ایک معمولی حصہ ہے۔ویسا ہی ہے جیسا کہ غالب نے