ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 146 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 146

146 اپنے ایک شعر میں کہا کہ قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل بچوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا کہ اگر تمہیں قطرے میں سمندر دکھائی نہیں دیتا یعنی کسی قابل تعریف بات میں تمہیں خدا تعالیٰ کی قابل حمد ذات دکھائی نہیں دے رہی اور یہ پتہ نہیں لگتا کہ یہ قطرہ خدا کے سمندر کا ایک حصہ ہے تو یہ پھر دیدہ بینا نہیں ہے۔یہ تو بچوں کا ایک کھیل ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ غالب نے انہی معنوں میں یہ شعر کہا ہوگا لیکن مجھے تو صرف انہیں معنوں میں یہ شعر اچھا لگتا ہے اور انہی معنوں میں تعریف کے لائق بھی ہے کیونکہ یہ شعر خدا کی تعریف سے منسلک ہو جاتا ہے۔پس یہ وہ معنی ہیں جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے حمد کرنی چاہیے اور خوبصورت چیزوں پر نگاہ کرنی چاہئیے اور خوبصورت چیزوں سے محبت کرنی چاہیے یعنی وہ محبت ان تک ٹھر نہ جائے بلکہ ان کے وجود سے پار نکل جائے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظم ہے کس قدر ظاہر ہے اور اس مہدی الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آپکینہ انصار کا کہ دیکھو عالم میں کیسا خوبصورت نور پھیلا پڑا ہے۔جیسے چاندنی راتوں میں ہمیں مشرق میں تجربہ ہے ویسی چاندنی راتیں مغرب میں نہیں دیکھی جاتیں۔وہ منظر ہی اور ہوتا ہے جو مشرق میں چاند ابھرتا ہے یا کسی ٹھنڈے دن خوبصورت دھوپ مغرب میں نکلتی ہے تو اس وقت دن کی روشنی کا جو لطف آتا ہے وہ مشرق میں کم دکھائی دیتا ہے۔کسی کو خدا نے راتیں خوبصورت دی ہیں۔کسی کو دن خوبصورت دے دیتے ہیں۔اگر نظر وہیں ٹھہر جائے اور ایک روز مرہ کے انگریز کی طرح آپ یہ کہیں کہ What a beautiful morning اور وہیں بات کھڑی ہو جائے تو یہ غفلت ہے لیکن اگر آپ اس دل سے پیچھے جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ سے اس نور کا لطف اٹھا رہے ہوں تو بے اختیار دل سے یہی کلام جاری ہوگا۔کس قدر ظاہر ہے اور اس مبدا الانوار کا -