ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 144
144 ہے گویا وہ مضمون یہ ہے کہ خدا تو کھوٹے پیسوں سے بھی بعض دفعہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔اتنا بخشش کرنے والا اتنا التجاؤں کو قبول کرنے والا ہے کہ اس سے اگر تم ہمیشہ دعا کے تعلق سے اپنے محبت کے رشتے مضبوط نہ کرتے رہو تو تمہاری محرومی ہے۔وہ تو ہر وقت قریب ہے۔ہر وقت سننے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کو بعض لوگ غلط سمجھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی اپنی نیکیوں کے حوالے سے خدا تعالٰی سے دعائیں کرنی چاہئیں۔وہ پتھر تو ان کی زندگی میں ایک دفعہ گرا لیکن میں جانتا ہوں کہ ہماری زندگی میں مصیبتوں کے پتھر روز گرتے رہتے ہیں۔کون انسان ہے جو اس تجربے سے نہیں گزرتا۔کوئی دن ایسا نہیں آتا جو کسی نہ کسی پہلو سے تلخیاں لیکر نہیں آتا۔کبھی اپنا غم کبھی کسی دوست کا غم ، کبھی رشتے دار کی تکلیف کبھی دشمن کی طرف سے ڈراوے اور کئی قسم کے خوف کبھی عالمی خوف کبھی علاقائی خوف انسان کی ساری زندگی تو مصیبت کے پتھروں میں گری پڑی ہے اپنی کتنی نیکیاں آپ ڈھونڈ نکالیں گے کہ وہ پتھر سرکنے شروع کریں۔ایک ہی علاج ہے اور وہ علاج وہ ہے جو انبیاء نے ہمیں سکھایا ہے کہ خدا کے حضور کامل بجز اور انکسار کے ساتھ حاضر ہوں۔اپنی نیکیوں پر انحصار کر کے دعائیں نہ مانگو۔خدا کے فضلوں پر انحصار کر کے دعائیں مانگو اور اللہ تعالٰی سے کہو کہ ہم تہی دامن ہیں۔سب تعریف تیرے لئے ہے۔جو کچھ ہمیں اچھا دکھائی دیتا ہے وہ بھی تیری وجہ سے ہے اور تو نے بنایا ہے تو اچھا ہے۔جو کچھ ہم نے کمایا اس کمانے کی توفیق بھی تو نے ہی دی اور اس پہلو سے انسان جب اپنی ساری زندگی پر نظر ڈالتا ہے تو اس کو اتنے مواقع دکھائی دیں گے کہ جب وہ ہلاک ہو سکتا تھا اور اپنی کمزوریوں اور بدیوں کی وجہ سے ہلاک ہو سکتا تھا۔اگر خدا اس کی پردہ پوشی نہ کرتا تو اپنے مواقع بھی ہر انسان کی زندگی میں آتے ہیں کہ ایک دفعہ پر دے کا چاک ہونا اس کی ہلاکت کا سامان پیدا کر سکتا تھا، کچھ بھی اس کا باقی نہ رہتا۔کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو اپنی نیکیوں کے حوالے دیکر خدا سے مانگے پس جہاں یہ کیفیت ہو وہاں کوئی فرح مخور بیوقوف ہی ہو گا جو اپنی نیکی کے حوالے دے دے کر خدا سے مانگنے کا عادی بنے۔کہاں سے اتنی نیکیاں لائے گا جبکہ بدیوں کا پلہ