ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 105
105 سمجھ آئے گا۔اس لئے جب قرآن کریم کا مطالعہ کریں اور خصوصیت کے ساتھ جہاں شیح کا مضمون ہو اور حمد کا مضمون بیان ہو وہاں غور کریں اور ٹھہریں اور پھر آپ دیکھیں کہ اس کھڑکی سے آپ کو اور کیا کچھ دکھائی دیتا ہے تو وہاں آپ کو بہت سی صفات باری تعالی دکھائی دینے لگیں گی۔اس کی ایک دو مثالیں میں نے مضمون کھولنے کی خاطر چنی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَقُطِعَ دَابِرُ القَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (سورۃ الانعام آیت : ۴۶) فَقُطِعَ دَابِرُ القَوْمِ الذِينَ ظَلَمُوا، وہ قومیں جنہوں نے ظلم کیسے ان کو جڑوں سے اکھٹر پھینک دیا گیا۔وَالْحَمْدُ بلُورَتِ الْعُلمنين رب العالمین خدا کو ہر محمد زیبا ہے۔ہر خود اس کی ہے۔اس کا حق ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔اگر ظالم کی جڑ نہ کائی جائے تو حسن نا پید ہو جائے اگر ظلم کرنے والے کی جڑیں نہ کاٹ دی جائیں تو خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کے ہر جلوے کی جڑیں کائی جائیں اور دنیا سے حسن ناپید ہو جائے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین اس کے ساتھ بیان کر کے یہ فرما دیا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ آیت العلمین کو ہر حمد واجب ہے۔ہر محمد اسی کا حق ہے اس کو زیبا ہے اسی کی شان ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی چیزوں کا نگران بھی ہے۔اور ایسی چیزوں کو جو بعض خوبیوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، ایسی چیزوں کو جو حسن کو ناپید کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو بدی کو پھیلانے کی طاقت رکھتی ہیں ان کو نا پید کرنے کا کام بھی رب العالمین کا ہے۔اور اسی کو زیبا ہے اور اس کے لئے واجب ہے کہ ایسا کرے۔پس صفات باری تعالیٰ خواہ وہ غضب کی صفات ہوں یا نا راضگی کی صفات ہوں یا ظاہرا" بھی رحم و شفقت کی صفات ہوں وہ در حقیقت رحمت اور شفقت کی تھی صفات ہیں اور ربوبیت کی ہی صفات ہیں۔اس کی ایک اور مثال یہ ہے : وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَيْكَة مِن خِيفَتِه (سورة الرعدة آيت (۱۳) کہ "وعد" اس کی حمد کر رہی ہے یعنی بجلی کے کڑ کے جو آپ بادلوں میں دیکھتے ہیں یہ