ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 106
106 خدا تعالیٰ کی حمد بیان کر رہے ہیں۔والمليكة من خيفتہ اور ملا کہ بھی حمد کر رہے ہیں مگر اس کے خوف سے اس کے ڈر سے۔اب اگر آپ بجلی کو دیکھیں تو ایک ساده انسان جس کو دنیا کا کوئی بھی علم نہیں ہے وہ بھی اس سے مرعوب ضرور ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ بجلی کے کڑکے کا ایک ایسا ہیبت ناک جلوہ ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑے انسان کا پتہ پانی ہو جاتا اور دل لرزنے لگتا ہے۔اگر انسان واقعی ایسے طوفان میں گھر جائے جس کے سائنسی اصطلاح میں بعض خاص نام رکھے گئے ہیں مگر اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔بعض طوفان ایسی خوف ناک برقی طاقتوں پر مشتمل ہوتے ہیں کہ آنا " فانا وہ بڑے بڑے شہروں کو بھسم کر سکتے ہیں اور ایک ایٹم بم کی طاقت سے بھی کئی گنا زیادہ طاقتیں ان کے اندر ہوتی ہیں۔اس لئے اس کا تعلق خوف سے بھی ہے۔چنانچہ جب آپ پہلی سادہ نظر میں ایک طوفان کو پھیلی کو اور خصوصا بجلی کے کڑکوں کو دیکھتے ہیں تو آپ کا دل خائف ہو جاتا ہے اور آپ خوف کی وجہ سے خدا کی حمد شروع کر دیتے ہیں۔یہ مضمون تو سمجھ آگیا۔خوف اس بات کا کہ محملی خیر چھوڑ جائے اور اس کے شر سے ہم محفوظ رہیں جو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے نیک وجود ہیں ان کو بھی ملا نکہ کے نام سے موسوم فرمایا گیا اور ملائکہ کے طور پر ان کا بھی ذکر کیا گیا وہ بجلی کو دیکھ کر اس بات کی حمد کرتے ہیں کہ اے خدا ! سب طاقتیں تجھ کو ہیں۔بدی سے شر بھی نکال سکتا ہے ، شر سے بدی بھی پیدا کر سکتا ہے۔بادل جو رحمت کا پانی لیکر آئے ہیں اور ان کے ساتھ بجلی کے کڑکے بھی لگے ہوئے ہیں لیکن ان بجلی کے لڑکوں سے بھی تو خیر پیدا کر سکتا ہے۔پس ہم تیرے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے تیرے حضور تذلل اختیار کرتے ہوئے تیری حمد کے گیت گاتے ہیں۔ہمیں ہر چیز میں تیرا حسن دکھائی دے رہا ہے۔یہاں "خيفته " کے ساتھ حسن کے مضمون کو باندھ دیا گیا یعنی صرف بجلی کا خوف نہیں ہے۔بجلی کے خوف پر جب خور ہوا تو پتہ لگا کہ اس کے اندبہ بہت سے حسن چھپے ہوئے ہیں۔بہت سی خوبیاں چھپی ہوئی ہیں۔یہ مضمون غور کرنے کے بعد اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ خدا کی تخلیق میں، ہر چیز میں حمد ہی حمد ہے تو