ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 104
104 كا مع الحمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ - نظر آئے گا۔اس مضمون پر جب میں نے غور کیا تو یوں کہنا چاہئیے کہ عقل بالکل حیران و ششدر رہ گئی۔یوں لگتا تھا کہ انسان عالم حیرت میں غرق ہو گیا ہے۔کائنات کے کسی ذرے میں آپ ڈوب کر دیکھیں تو پہلے ایک خداد کھائی دے گا، پھر اس ایک خدا کے مختلف جلوے دکھائی دیں گے اور اس کی صفات بڑھتی رہیں گی مگر مرکز ہمیشہ وہی ایک ذات رہے گی۔انتشار صفات کا ہے ذات کا نہیں اور اس ذات سے تعلق رکھنے والی ساری صفات ہیں۔اس مضمون کو سمجھنے والی چابی الْحَمْدُ للورات العلمین میں ہے یعنی اس رب کو ہر صفت لائق اور زیب ہے جس نے تمام جہانوں کو پیدا کیا اور تمام جہانوں کی پرورش کی۔پس العلمین کا ہر وہ ذرہ خدا کی طرف اشارے کر رہا ہے اور ایک ذات کی طرف اشارہ کرنے کے باوجود اس کی تمام صفات کی طرف بھی اشارے کر رہا ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس پہلو سے خدا تعالٰی کا الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کا جمله یا بیان واقعہ " بغیر کسی تردد کے بغیر کسی تصنع کے خدا تعالی کی تمام صفات کی طرف انگلیاں اٹھا رہا ہے لیکن اس ضمن میں ایک احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں جس رنگ میں حمد کا مضمون بیان ہوا ہے اس کا مطالعہ کریں اور غور سے یہ بات دیکھیں کہ جہاں جہاں بھی قرآن کریم نے حمد کا لفظ استعمال کیا ہے وہاں خدا کی صفات کو سمجھنے کی کھڑکیاں کھولی گئی ہیں اور ہر کھڑکی ذات کے الگ جلوے دکھا رہی ہے اور اس مضمون کو کھولتی چلی جاتی ہے۔پس بجائے اس کے کہ اپنے ذوقی نکتوں کے ذر لیتے آپ اس مضمون کو سمجھنے کی کوشش کریں قرآن کریم نے خود جو کھڑکیاں کھولی ا جو روزن ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں ان سے خدا تعالیٰ کی صفات کا معائنہ کریں تو کسی قسم کی غلطی نہیں کریں گے۔میں نے کہا تھا کہ خدا ظالم نہیں ہے اس کے باوجود سزا کا مضمون ملتا ہے۔رب العالمین رحمان رحیم مالک کا ذکر ہے۔غضب ناک خدا کا کوئی ذکر نہیں، اس کے باوجود سورہ فاتحہ ختم ہونے سے پیشتر ہی ہمیں منصوب عليھ کا مضمون نظر آجاتا ہے تو پھر ان کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ ان سب کا تعلق الْحَمْدُ لله رت العلمین سے ہے اور یہ مضمون آپ کو قرآن کریم کی مدد سے ہیں