ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 5
5 اسکا رنگ اجڑ جائے۔اس کا نقشہ بدلنے لگے۔چیزیں ٹوٹ ٹوٹ کر گرنے لگیں تو اسی گھر سے وحشت ہوگی۔محمد رفتہ رفتہ اس کو چھوڑ دیگی۔ایک خوبصورت چیز سے محبت ہے۔جب تک اس کی خوبصورتی قائم ہے اس وقت تک طبعا اس کی طرف رغبت ہوگی اور جب خوبصورتی مٹ جائے تو پھر یا تو انسان اس سے متنفر ہو کر دور بھاگنے لگتا ہے یا اگر وہ صاحب وفا ہے تو ایک اور صفت اس کے کام آتی ہے اور وفا اس کو اس کے ساتھ تعلق قائم رکھنے پر مجبور کرتی چلی جاتی ہے لیکن وہ طبعی بے اختیار محبت جو حسن کے ساتھ وابستہ ہے وہ ویسی نہیں رہ سکتی۔اسی لئے وفا اور جفا میں میں فرق ہے۔حسن اگر ہو گا تو نہ وفا کی ضرورت ہے نہ جفا کا سوال۔جب حسن مٹ جائے یا پیچھے ہٹنے لگے تب یہ دو مضامین آگے بڑھتے ہیں اور صاحب وفا کا تعلق اس چیز سے قائم رہتا ہے جو حسن چھوڑ بیٹھی ہے اور صاحب جفا اس سے آنکھیں بدل لیتا ہے تو امر واقعہ یہ ہے کہ الحمد للہ کی ایک تفسیر ان چیزوں پر غور کرنے سے بھی آپ کے سامنے ابھرے گی۔جو چیز بھی آپ کو پیاری ہے اس پر آپ غور کر کے دیکھ لیں، اس کا حسن دائمی نہیں۔اس کی لذت دائمی نہیں ہے۔بلکہ اگر اس میں لذت موجود بھی ہو تو سیری کے بعد آپ کی نظر میں اس کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔جو چاہیں مزیدار کھانا آپ کھائیں، آپ کو میسر ہو کثرت کے ساتھ مین آپ کی خواہشات کے مطابق تیار ہوا ہو۔جب پیٹ بھر جائے گا تو اس کی حمد ختم ہو جائے گی۔دوبارہ جب آپ کو کوئی دے گا تو آپ پہلے تو تکلف سے مسکرا کر کہیں گے کہ نہیں نہیں کوئی ضرورت نہیں۔اگر وہ زیر دستی کھلائے گا تو آپ کا دل چاہے گا کہ اس کو جوتیاں ماریں کہ اس نے کیا مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔بچے چونکہ بے تکلف ہوتے ہیں وہ صاف ماؤس کے منہ پر بات مارتے ہیں کہ بس نہیں کھانا۔جو مرضی کر لیں تو حمد حسن کے ہوتے ہوئے بھی ختم ہو جایا کرتی ہے لیکن ایک ذات ہے جس نے وہ حمد ان چیزوں میں رکھی ہے۔اس کی حمد دائمی ہے۔وہ ذاتی حمد ہے اور اسی نے پیدا کی ہے۔جب چاہے وہ حمد چھین لے۔جب ان باتوں پر آپ غور کرتے ہیں تو آپ کا ہر قبلہ خدا کی طرف اشارہ کرنے لگتا ہے اور قبلہ اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔چنانچہ غالب نے اسی مضمون کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے یعنی ان معنوں