ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 4 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 4

دیا جائے تو باقی سارے مضامین خالی رہیں گے کیونکہ حمد کا دروازہ وہ دروازہ ہے جس سے داخل ہو کر سورۂ فاتحہ کے باقی مضامین سمجھ آتے ہیں اور ان میں رس بھرتا ہے تو پہلی نصیحت یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ جب پڑھتے ہیں تو لفظ الحمد پر ٹھہر کر غور تو کیا کریں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔سب تعریف ہر قسم کی تعریف، مکمل تعریف خدا ہی کے لئے ہے۔ایسا شخص جس کو نماز میں مزا نہیں آتا اس کے قبلے جدا ہوتے ہیں۔اس کی لذت یابی کی را ہیں الگ ہوتی ہیں۔اس کے سامنے کوئی دوست ہوتا ہے۔کوئی مطلوبہ چیز ہوتی ہے۔کوئی اور ایسی طلب ہوتی ہے جس کے ساتھ اس نے اپنی حمد کو وابستہ کیا ہوتا ہے۔اپنی لذات کا قبلہ خدا کو بنائیں پس لذت تو وہاں آتی ہے جہاں لذت کا قبلہ ہو۔اگر قبلہ اور طرف ہو اور آپ کا منہ اور طرف ہو تو آپ کو بے چینی پیدا ہوگئی، لذت نہیں آئے گی۔پس لفظ حمد پر غور کرنا بہت ضروری ہے اور اس کا ایک آسان طریق یہ ہے کہ اپنی ذات کا تجزیہ کیا جائے اور انصاف کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ انسان پہلے یہ تو معلوم کرے کہ مجھے کون کون کی چیزیں اچھی لگتی ہیں۔کون کون سے چیزیں ایسی ہیں جن سے مجھے پیار ہے۔ان چیزوں کو اگر نماز کے ساتھ باندھ دیا جائے تو نماز بھی پیاری لگنے لگے گی۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے حقیقت میں انسان کو بڑی وسیع نظر سے اپنی ساری زندگی اور اس کے مقاصد کا جائزہ لینا پڑے گا اور وسیع نظر سے ہی نہیں بلکہ گہری نظر سے بھی۔اور جب انسان اپنے حمد کے مقامات کا تعین کر لے کہ میرے نزدیک یہ چیز باعث حمد ہے یہ چیز قابل حمد ہے۔یہ چیز تعریف کے لائق ہے تو اس وقت الحمد للہ کا ایک اور مضمون اس کے سامنے ابھرے گا۔وہ جب غور کرے گا تو جو چیز بھی اس کو اچھی لگتی ہے اس کو اچھا نبٹانے میں خدا کی تقدیر نے کام کیا ہے۔اور خدا چاہے تو اسے اچھا رکھے گا۔جب چاہے گا وہ اچھی نہیں رہے گی۔اور اس کی اچھائی ذاتی نہیں اور دائمی نہیں۔بعض دفعہ ایک چیز ایک خاص حالت میں اچھی لگتی ہے۔اچھا نیا بنا ہوا گھر ہے۔بہت ہی خوبصورت لگتا ہے۔اس کے ساتھ انسان کی طبیعی حمد وابستہ ہو جاتی ہے لیکن پچاس، ساٹھ ستر سال کے بعد جب اس کی چولیں ڈھیلی ہو جائیں، جب وہ جراثیم سے بھر جائے۔ہر طرف S