ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 6

6 میں تو نہیں کہ سورہ فاتحہ سے تعلق میں لیکن چونکہ وہ صوفیانہ مزاج بھی رکھتا تھا اس لئے بعض دفعہ اچھی اچھی حکمت کی باتیں بیان کر دیا کرتا تھا۔کہتا ہے۔ہے پرے سرحد اور اک اپنا مسجود سے اپنا قبیلے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں کہ ہم بظاہر قبلے کی طرف منہ کرتے ہیں لیکن ہمارا مسجود قبلے سے پرے ہے۔قبلہ فی ذاتہ مسجود نہیں ہے۔جو نظر رکھنے والے لوگ ہیں، صاحب نظر لوگ وہ قبلے کو قبلہ نما کہتے ہیں۔قبلہ دکھانے والا۔تو اس نگاہ سے اگر آپ کائنات کی کسی چیز کو بھی دیکھیں تو ہر چیز کے ساتھ حمد کا ایک تصور وابستہ ہے اور ہر چیز قبلہ نما بن جاتی ہے۔پس صرف وہی چیزیں نہیں جو آپ کے لئے محمود ہیں اور آپ کو محبوب ہیں بلکہ کسی چیز پر بھی آپ نظر ڈالیں۔کوئی چیز بھی حمد سے خالی نہیں اور اس کے ساتھ ہی فرمایا لِلهِ رَبِّ الْمُلَمِينَ اور ربوبیت کا حد سے ایک بہت گہرا تعلق ہے۔میرے لئے یہ تو ممکن نہیں ہو گا کہ حمد کے مضمون کو ان سات مضامین سے باندھ کر تفصیل سے یہاں بیان کروں لیکن یہ نمونہ آپ کو دے رہا ہوں تاکہ ان باتوں پر غور کر کے اپنی نمازوں کے ان سات برتنوں کو ایسے رس سے بھر دیں کہ ہر برتن میں آپ کے لئے ایک تسکین بخش شربت موجود ہو جسے پی کر آپ لذت حاصل کریں۔کائنات کی ہر چیز حمد کا باعث ہے اب ربوبیت کے مضمون کے ساتھ حمد کا جو تعلق ہے وہ بہت ہی گہرا اور بہت ہی وسیع ہے۔میں نے آپ کے سامنے کھانے کی مثال پیش کی۔کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ کھانا جب فضلے میں تبدیل ہو جاتا ہے گندگی اور بدبو میں تبدیل ہو جاتا ہے تو پھر کہاں حمد اس میں باقی رہ سکتی ہے۔اور حمد کے مضمون کو میں اس کے ساتھ کیسے باندھوں گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نظر گہری کر کے دیکھو۔ربوبیت کا اس کے ساتھ بھی ایک گہرا تعلق ہے کیونکہ جو چیز تمہارا گند ہے وہ خدا کی کائنات میں بعض اور مخلوقات کے لئے ایک نعمت ہے اور وہ نعمت مختلف شکلوں میں اس کی دوسری مخلوق کو پہنچ رہی ہے۔ایسی بدبودار کھاو جس کے پاس سے گزرا بھی نہیں جاتا وہ پودوں کے لئے ایک