ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 73 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 73

73 کہنا پڑا آسان کام ہے کہ اے خدا ہمیں سیدھے رستے پر چلا۔بس بات ختم ہو گئی۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ جن لوگوں پر خدا نے انعام کیا تھا وہ تھے کون کون اور اس دنیا میں کن کن مصیبتوں سے گزرے ہوئے ہیں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تمام انعام پانے والوں کے سردار تھے اور اس سے پہلے موسیٰ نے بھی انعام پائے اور عیسی نے بھی پائے اور ابراہیم نے بھی پائے اور نوح نے بھی پائے اور تمام گذشتہ انبیاء جن کی تاریخ قرآن کریم میں محفوظ ہے وہ لوگ ہیں جو منعم علیھم کے گروہ میں داخل ہیں۔اس رستے پر چلتے رہے جس پر خدا نے انعام پانے والے انسان پیدا کئے تھے۔انعام نہیں رکھے، انعام حاصل کرنے والے انسان پیدا کئے تھے۔اب ان پر آپ نظر ڈالیں تو ہر ایک کی زندگی ایک مصیبت یعنی دنیا کی نظر میں۔ایسے خطر ناک مراحل سے گزرے ہیں۔ایسے تکلیف وہ حالات کا ساری عمر سامنا رہا۔ایسی ایسی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے۔ایسے ایسے دکھ ان پر لادے گئے کہ جو عام انسان کی کمر توڑ دیتے ہیں تو کیا آپ یہ دعا مانگ رہے ہیں کہ اے خدا ہمیں وہ بنا دے۔اچانک ایک جھٹکا انسان کو لگتا ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ میں کہاں پہنچ گیا۔اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہتے کہتے آرام سے میں ہر چیز مانگتا ہی چلا جا رہا تھا اور اچانک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں ڈر لگتا ہے اور دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ میں کیا مانگ رہا ہوں۔اور اگر یہ دیانتداری سے مانگتا ہے تو پھر ہر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار ہونے کی کوشش کرتا ہے اور ارنا مناسحنا (سورة البقرة : آیت (۲۹) کی دعا مانگ رہا ہوتا ہے۔یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اے خدا! اب مجھے میری قربان گاہیں دیکھا۔مجھے بتا کہ کہاں کہاں میرے خون کے قطرے تیری راہوں میں بنے چاہیں۔کس کس مقام پر میرے سر قلم ہونے چاہیں اور میری جان تجھ پر فدا ہونی چاہیے۔کتنی عظیم لیکن ایک کتنی صہیب دعا بن جاتی ہے ان معنوں میں کہ انسان مُنْعَمْ عَلَيْهِمْ کے گروہ پر جب غور کرتا ہے تو ایک اور ہی تصویر ابھرتی ہے اور اس تصویر کے ساتھ خوف جو پیدا ہوتا ہے اس کے لئے اللہ تعالٰی نے اس کا علاج قرآن کریم میں ہی رکھ دیا ہے۔فرمایا : منعم علیہ وہ نہیں ہیں جو صرف انبیاء سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ان کے مختلف مراتب ہیں۔وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ