ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 67

67 چھینی ہوئی چیزیں اس کو مالک نہیں بنا دیا کرتیں۔ان میں سے وہ کچھ کسی کو دے بھی دے اور کوئی والی مقرر کر دے اور بظاہر ملوکیت کسی کے سپرد کرے تو جیسا اس کا قبضہ ناجائز دیسے اس کی عطاء ناجائز اور بے معنی اور بے حقیقت۔لیکن جب یوم الدین کی شرط ساتھ لگا دیں تو یہ فرق بالکل ہی نمایاں اور اتنا زیادہ واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی مشابہت کی شکل بھی باقی نہیں رہتی۔یوم الدین کا مطلب ہے : جزاء سزا کے دن آخری دن کا مالک ہر چیز اس کی طرف لوٹ جائے گی اور ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئی دوسرا شخص ملکیت میں یا ملوکیت میں ایک ذرہ بھر بھی اس کا شریک نہیں رہے گا۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وما ادريك ما يومُ الدِّين - ثُمَّ مَا ادْرُكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسُ لِنَفْسٍ شَيْئًا، وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ يله سورة المطففين : آیات ۱۹-۲۰) کہ تمہیں کس طرح سمجھائیں کہ یوم الدین کیا چیز ہے۔یوم الدین اس دور کا اس زمانے کا نام ہے لا تقلك نَفْسُ لِنفس شيئا - کوئی شخص اپنے لئے یا اپنے کسی عزیز یا تعلق والے کے لئے کسی چیز کا بھی مالک نہیں رہے گا۔لَا تَمْلِكُ نَفْسُ لنفس شَيْئًا، وَالامْرُ يَوْمَئِذٍ لِلهِ۔اور ملکیت کا امر کلیتہ " سو فیصد خدا کی طرف لوٹ چکا ہو گا۔پس یہ دنیا کے بادشاہ اور دنیا کے مالک عارضی طور پر آپ کو بظا ہر مالک دکھائی بھی دیں اور خدا کی صفت ملوکیت میں شریک بھی دکھائی دیتے ہوں مگر اس طرح دنیا سے خالی ہاتھ واپس جاتے ہیں اور اس طرح ان کی ملوکیتیں اور ملکیتیں یا ان سے چھینی جاتی ہیں یا یہ خود ان سے جدا کئے جاتے ہیں کہ بالآخر خدا کی مالکیت کا مضمون اپنی پوری شان سے بلا شرکت غیرے ابھرتا ہے اور ہر امر اس کی طرف لوٹ جاتا ہے۔پس خدا کے بندے کے طور پر اس کی ملوکیت میں حصہ لینا اس مضمون کو بہت وسیع کر دیتا ہے اور جو خدا سے مالکیت مانگتا ہے اور خدا جیسا بن کر مالک بننے کی کوشش کرتا ہے اسے موت اس کی ملکیت سے محروم نہیں کیا کرتی۔وہ ایک عالم بقاء میں رہنا سیکھ لیتا ہے۔یہاں جو کچھ پاتا ہے وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے انگلی دنیا میں منتقل بھی کرتا چلا جاتا ہے۔یہاں جو بادشاہتیں خدا کی خاطر