ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 3

❤ ہو گئے۔قرآن کریم نے جب سورۂ فاتحہ کو ام الکتاب قرار دیا اور بار بار دہرائی جانے والی آیات قرار دیا تو یہی وہ مضمون ہے جس کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہر نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھنا فرض قرار دے دیا اور بار بار دہرائی جانے لگی یعنی نمازوں میں یہ ام الکتاب یا سورۂ فاتحہ بار بار دہرائی جانے لگی۔سورۂ فاتحہ میں سارے سوالوں کا جواب مضمون اب میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ یہ ایک ایسی بار بار پڑھی جانے والی سورۃ ہے جس کے اندر اس کے متعلق اٹھائے جانے والے سارے سوالات کا جواب ہے۔سورۂ فاتحہ کی اس مناسبت کے ساتھ تغییر کرنا جو میں ذکر چلا رہا ہوں بہت ہی زیادہ وقت چاہتا ہے لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ مختصر وقت میں اس مضمون کا تعارف آپ سے کروا دوں تاکہ بعد میں آپ سوچتے رہیں اور اس سے استفادہ کریں۔جو سات مضامین اس میں بیان ہوئے ہیں ان میں سے چار صفات باری تعالی ہیں۔اور ایک عبادت کا عہد ہے اور ایک استعانت ہے یعنی مدد مانگنا اور ایک ہدایت کا ذکر ہے یعنی ہدایت طلب کرنا۔یہ سات باتیں اس میں بیان ہوئی ہیں۔ان حمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ملك يوم الدين - یہاں جو لفظ "الحمد" ہے اس کا اس سارے منہ تعلق ہے۔صفات باری تعالی چار ہیں لیکن حمدان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک دائی لازمی ہمیشہ کا تعلق رکھتی ہے اور بعد میں بھی جتنے مضامین بیان ہوئے ہیں ان سب کا حمد سے تعلق ہے۔پس حمد سورۂ فاتحہ کا ایک رنگ ہے۔اسی لئے اسے الحمد بھی کہا جاتا ہے۔جہاں تک حمد کا تعلق ہے یہ چونکہ ہر مقام شکر پر ادا کی جاتی ہے اس لئے جب بھی ہم نے خدا کا شکر ادا کرنا ہو تو الحمد کو شکر کے معنوں میں بھی ادا کرتے ہیں یعنی جب بھی کہتا ہو۔اے خدا! ہم تیرے بے حد ممنون ہیں، تو نے بہت احسان کیا۔خیرا شکریہ تو الحمد للہ منہ سے نکلتا ہے گویا حمد اور شکر دونوں ہم معنی ہو گئے اور کثرت استعمال نے یہ معنی محمد کو عطا کر دیئے ہیں تو سب سے پہلی بات جو سورہ فاتحہ ہمیں بتاتی ہے جس کا سورۂ فاتحہ کے سارے مضمون سے تعلق ہے وہ حمد ہے اگر حمد کا لفظ بغیر سوچے ادا کر