ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 2
2 سورۃ پر غور کریں تو کوئی دنیا کا ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کی کنجی آپ اس میں نہیں پائیں گے۔مختصر تعارف اس کا یہ ہے کہ اسے ام الکتاب بھی کہا گیا ہے یعنی قرآن کریم کی ماں ہے اور بھی بہت سے اس کے نام ہیں۔اس کی سات آیات ہیں اور سات ہی مضامین میں اس پر بحث کی گئی ہے اور ہر انسان اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں اس کو ادا کرتا ہے۔یہ وہ سورۃ ہے جو ہر مسئلے کا حل اپنے اندر رکھتی ہے خود اس کے متعلق بھی سوال اٹھتے ہیں اور اٹھائے جاتے ہیں کہ ایک ہی سورۃ ہم مسلسل پڑھتے چلے جائیں تو آپ خود ہی کہیں کہ کیا بوریت نہیں ہوگی۔ایک ہی جیسے الفاظ۔عیسائی تو ہفتے میں ایک دفعہ یعنی اتوار کے دن جا کر کچھ سنتے یا کوئی باتیں دہراتے ہیں لیکن مسلمان ہر روز ہر نماز میں جو پانچ دفعہ پڑھی جاتی ہے اور اس کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کا اعادہ ضرور کرتا ہے اور اس کو تکرار سے پڑھتا چلا جاتا ہے۔ایک ہی کھانا اگر روز کھایا جائے تو انسان تنگ آ جاتا ہے۔دیکھئے یہود اسی وجہ سے کتنی بڑی ٹھو کر کھا گئے تھے کہ کھلم کھلا خدا کی نعمت کے خلاف بغاوت کی کہ ہم ایک نعمت پر ہمیشہ کے لئے راضی نہیں رہ سکتے۔ہمیں تو مختلف قسم کے کھانے دیئے جائیں۔کون انسان روزانہ ایک کھانا کھائے۔اس مصیبت سے تو مذہب سے دور ہٹنا ہی بہتر ہے۔جب تحریک جدید کا آغاز ہوا تو احمدیوں کے لئے بھی کچھ اسی قسم کا ابتلاء آیا تھا۔غرباء تو ایک کھانے پر راضی ہوتے ہی ہیں لیکن تحریک جدید نے جب ایک کھانا کہا تو امراء کو بھی اس کا پابند کر دیا لیکن اس میں اور یہود کے ابتلاء میں ایک بہت بڑا فرق تھا۔یہود کا ابتلاء یہ تھا کہ ایک کھانا اور روزانہ ایک ہی کھانا۔قسم میں بھی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن تحریک جدید کے پروگرام میں تو روزانہ آپ صبح سے شام ، شام سے صبح قسمیں تبدیل کر سکتے تھے۔تو بہت بڑے ابتلاء میں وہ ڈالے گئے تھے اور آخر ایک بڑا حصہ اس میں ناکام رہا مگر بعید نہیں کہ اس میں بھی وہی مضمون ہو جو سورہ فاتحہ سے تعلق رکھتا ہے یعنی ظاہری طور پر ایک کھانا ہی ان کو دیا گیا ہو گا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ روحانی غذا کا ذکر زیادہ ہے۔کوئی ایسی روحانی غذا ان پر لازم کی گئی جسے انہیں ہمیشہ با قاعدہ تکرار کے ساتھ دہراتے چلے جانا تھا اور جس سے چھٹے رہتا تھا۔پیس ظاہری طور پر بھی ایک کھانا اور روحانی لحاظ سے بھی ایک کھانا یہ تو و ہرے ابتلاء میں جتلا