ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 478
478 جاتے ہیں۔اپنے طور پر کوئی خالص نہیں بن سکتا، تو یہ نبوت کا مضمون ہے جس کو شیطان نے یہاں بیان کیا ہے۔وہ کہتا ہے ہاں وہ لوگ جن کو نبوت کے ذریعے تیری طرف سے خلوص عطا ہو گا اور وہ نبوت کی پیروی کے ذریعے مخلص بنائے جائیں گے وہ یقینا میری پیروی نہیں کریں گے۔قال هذا صِرَاطَ عَلَى مُسْتَقِيمُ (سورة الحجر : (۲۲) خدا تعالٰی نے اس کے جواب میں فرمایا۔یہ وہ سیدھا رستہ ہے جو میری طرف آتا ہے۔یعنی شیطان بھی وہیں بیٹھا ہوا بہکا رہا ہے اور خدا کے انبیاء بھی اسی رستے پر نیک نمونے دکھا رہے ہیں اور جن کو خدا کے ان نیک بندوں پر ایمان لانے کی توفیق ملتی ہے وہ مخلص بنا دئے جاتے ہیں اور ان پر شیطان کا کوئی دخل نہیں رہتا فرمایا : (سورة (سورة ان عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ إِلَّا مَن اتَّبَعَكَ مِنَ الْغُوينَ۔الحجر : ۳۳) میرے بندوں پر تجھے کوئی تسلط نہیں، سوائے ان کے جو پہلے سے گمراہ ہوں اور ٹیڑھی طبیعت رکھتے ہوں۔وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِيْنَ الحجر : (۴۴) اور جہنم تم سب کیلئے وعدہ ہے۔اخم میں سب کے لئے اس جہنم میں داخل ہوگے۔لَهَا سَبْعَةُ آبو اب اس کے سات دروازے ہیں۔احد تابِ مِنْهُمْ جُزر مقسوم (سورۃ الحجر : (۴۵) اور اس کے ہر دروازے کے لئے ایک ہ مقرر ہو چکا ہے۔ایک ایسا جزء ہے جو پہلے سے تقسیم شدہ ہے اور وہ ان دروازوں کے کے ذریعے داخل ہو گا۔شیطان انہی کو گمراہ کر سکتا ہے جن میں کچھی ہے ان ساده کی آیات میں بہت سی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر ضروری ہے۔شیطان نے تو صرف اتنا کہا تھا کہ تیرے مخلص بندوں کے سوا میں سب کو گمراہ کردوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن کو تو گمراہ کرے گا ان پر بھی تیرا تسلط اس وجہ سے ہو گا کہ ان کے اندر کچھی موجود ہوگی ورنہ تیرا کچھ بھی اختیار نہیں ہے۔یہ ایک بہت گہرے فلسفے کی اور حکمت کی بات ہے جسے مومن کو سمجھ لینا چاہئیے کہ شیطان کا کسی پر کوئی تسلط نہیں ہے۔جن کو خدا مخلص کر دے ان پر تو اس کے تسلط کا سوال ہی نہیں ، دوسرے جو بندے ہیں ان میں سے جو ٹیڑھے ہوں وہی شیطان کو دعوت دیتے ہیں۔جن کے نفس