ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 477

477 ہے۔شیطان صاحب عقل بھی ہوتے ہیں یہ سننے کے بعد تب شیطان نے دعا کی ہے لیکن یہاں لفظ شیطان نہیں بلکہ ابلیس بابليسُ مَا لَكَ الَّا تَكُونَ مَعَ الشجدين (سورة الحجر : ۳۳) یہاں لفظ ابلیس خاص طور پر قابل توجہ ہے۔میں آگے جاکر بیان کروں گا کہ کیوں یہ یہاں خاص اہمیت رکھتا ہے۔قَالَ رَبِّ فَالْفِرْنَ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (سورة الحجر : ۳۷) اے خدا! مجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دے کہ لوگوں کو تو دوبارہ نئی زندگی عطا کرے گا۔قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظرين (سورة الحجر : ۳۴) ہاں ہم تجھے اس وقت تک کے لئے مہلت دیتے ہیں اپنی قومِ الوَقْتِ الْمَعْلُويد (سورة الحجر ۳۹) اس معین وقت تک کے لئے جس کا ذکر گزر چکا ہے۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا أَيْنَتَ لمة في الأرْضِ وَلَا غَوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (سورة الحجر : ۲۰) اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گراہ قرار دے دیا ہے۔میں ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے وہ بہت ہی حسین اور خوبصورت بنا کر دکھاؤں گا۔ولا غوِيَنَّهُمْ أَجْمَدِينَ۔اور میں تیرے سب کے سب بندوں کو گمراہ کر دوں گا۔إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ ( سورة الحجر : ۲۱) وہاں شیطان نے خود یہ استثناء کیا کہ سوائے ان بندوں کے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔یہاں مخلص کا لفظ نہیں بلکہ مخلص کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔مراد یہ ہے کہ جن کو تو خالص کر دے۔پس شیطان نے جو بات کی وہ بھی حکمت کی بات ہے اور شیطان کی طرف بھی قرآن نے جو باتیں منسوب کی ہیں ان میں سے بعض عقل اور سمجھ کی باتیں ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے شیطان دنیا میں صاحب عقل بھی ہوتے ہیں مگر انکار کی دفعہ ان کی عقلیں ماری جاتی ہیں جس طرح ابو جہل پہلے ابو الحکم کہلاتا تھا۔حکمت کا باپ وہ جہالت کا باپ بن گیا اور یہاں ابلیس سے مراد میں سمجھتا ہوں ہر دور کا ابلیس ہے۔اور مہلت دینے سے مراد یہ ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو بھیجتا ہے تاکہ اس کے خالص بندوں کا انتخاب کیا جائے اور ظاہری بندوں سے بچے اور مخلص بندوں کو الگ کر کے دکھایا جائے تو ان کو نبی کے ذریعے مخلص بتایا جاتا ہے۔وہ لوگ جو نبی کی اطاعت کرتے ہیں وہ خدا کی طرف سے خالص بنائے