ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 479

479 میں کجی نہ ہو ان پر شیطان کو غلبہ نہیں مل سکتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان عمادي ليس لك عَلَيْهِمْ سُلْطن میرے بندوں پر تو تیرے غلبے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔إلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغُوين - سوائے اس کے کہ کوئی ٹیڑھے لوگ خود تیری پیروی کریں۔اندر کی کجی باہر کے گناہ کو بلاتی ہے پس گناہ کا فلسفہ ہے جو بہت کھول کر بیان فرما دیا گیا۔اگر اب اپنی غلطیوں پر کوئی انسان گہری نظر سے نگاہ ڈالے اور اپنے ماضی کے حالات کا مطالعہ کرے تو اس پر یہ ب کھل جائے گا کہ اندر کی کبھی ہے جو باہر سے گناہ کو بلاتی ہے۔جب تک وہ کچھی انسانی فطرت میں پیدا نہ ہو انسان گناہ کی طرف نہ راغب ہو سکتا ہے نہ گناہ اسے مغلوب کر سکتا ہے۔اس لئے پہلے اندر ایک فیصلہ ہو جاتا ہے اور وہ وہی فیصلہ ہے جو آگے پھر گناہ کے رستوں کی پیروی کرنے کی توفیق دیتا ہے پس کیسا خوبصورت اور واضح انسانی فطرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔پس اندر کی جو کچی ہے اس کا نام شیطان ہے اور باہر سے بلانے والے جو ہیں وہ ابلیس ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے دور میں ابو جہل ایک ابلیس تھا اور اسی طرح ہر دور میں بہت سے ابلیس پیدا ہوتے ہیں ضروری نہیں کہ صرف ایک ہی ہو۔وہ بدیوں کی طرف بلاتے ہیں اور ہر انسان کے اندر ایک شیطان ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کی رگوں میں شیطان دوڑ رہا ہے اور ہر شخص کا اپنا شیطان ہے۔پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کا بھی شیطان ہے تو آپ نے فرمایا ہاں لیکن وہ مسلمان ہو گیا ہے۔یعنی میرے اندر کوئی کمی رہی نہیں۔یہ فطرت کا بہت گہرا راز ہے ہر انسان کی رگوں میں کچھ نہ کچھ بھی موجود ہوتی ہے جو اسے باہر کی بد آواز کے سامنے سرجھکانے پر آمادہ کر دیتی ہے اور اصل خطرناک شیطان اندر کا شیطان ہے اور وہ شیطان اگر مسلمان ہو جائے تو پھر دنیا میں کسی کو اس شخص کے اوپر غلبہ نہیں نصیب ہو سکتا یعنی خدا کے سوا کسی کو اس شخص پر غلبہ نصیب نہیں ہو سکتا۔