ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 476
476 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے قبضہ قدرت میں ہے کہ ان کے مکر کو جس طرح چاہے ذلیل اور رسوا کر کے نامراد کردے۔عِندَ الله مكرهم ان کے مکر خدا کی مٹھی میں ہیں۔وہ خدا والوں کو کیا کہہ سکتے ہیں۔دوسرا مطلب یہ ہے کہ خدا کے پاس ان کے مکروں کا مکمل ریکارڈ موجود ہے۔وَاِن كَان مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ اگر ایسے ایسے مکر بھی ان کے پاس ہوتے جن سے پہاڑ ٹل جاتے تب بھی خدا کے قبضہ قدرت میں تھے۔خدا کی اجازت کے بغیر وہ سارے مکر بے اثر رہتے اور بے اثر رہے تو جو دعا آخر پر نامنظور کی جاتی ہے اس کا فیصلہ بھی خدا تعالی ساتھ ساتھ بیان فرماتا چلا جا رہا ہے۔وإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَيْكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّن صَلْصَالٍ مِّن حَمَّا تَسْنُونٍ (سورة الحجر : آیت ۲۹) اس ذکر کے بعد کہ کس طرح ہم نے انسان کو ایک گلی سڑی مٹی سے پیدا کیا اور پھر فرشتوں کو اس کی اطاعت کا حکم دیا، فرماتا ہے : سب نے اطاعت کی سوائے ابلیس کے جب خدا نے پوچھا کہ کیوں تو نے اطاعت نہیں کی تو اس نے کہا کہ لم اكن لاسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِن صَلْصَالٍ مِّن حَمَإٍ مَسْنُونٍ (سورة الحجر : آیت ۳۴) کہ میں ان میں سے نہیں ہوں جو ایک ایسی ذلیل چیز کی اطاعت کریں جسے تو نے گندی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ایسی گھٹیا اور رسوا چیز کی اطاعت کرنے والوں میں میں نہیں ہوں۔قالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رجيم - (سورة الحجر : آیت ۳۵) فرمایا که تو اپنی موجودہ کیفیت سے باہر نکل جائیعنی ہم تجھے اس حالت میں نہیں رہنے دیں گے جس حالت میں ہم نے تجھے بنایا ہے۔تجھے ذلیل ورسوا کریں گے۔وان عليك اللعنة إلى يوم الدين (سورۃ الحجر : (۳۶) اور قیامت کے دن تک کے لئے تجھے يَوْمِ پر لعنت ہے۔: