ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 458
458 احسانات کا احساس رہے۔وہ شخص اس طرح حد سے نہیں گزر سکتا کہ محسن کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔بعض انسان ایسے ہیں جو احسان فراموش ہوتے ہیں۔ان سے آپ ساری عمر احسان کا سلوک کریں ذرا سا منہ موڑیں تو وہ اس کے نتیجے میں آپ کے مخالف ہو جاتے ہیں اور بعض آپ کو گزند بھی پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک فارسی کا شعر اس مضمون کا بہت ہی اچھا ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ دیکھو کتا ایک ایسا جانور ہے کہ تم اس کو ایک دفعہ روٹی کا ٹکڑا ڈال دو۔پھر اس کو سو دفعہ مارو۔لیکن وہ تم پر حملہ نہیں کرے گا۔لیکن بعض انسان ایسے بدنصیب ہیں کہ ان کو سو دفعہ روٹی ڈالو ایک دفعہ ان سے منہ موڑ لو تو وہ تم پر بھونکنے لگتے ہیں اور تمہارے خلاف ہو جاتے ہیں اور تم سے بدلے اتارنے کی کوششیں کرتے ہیں۔تو شیطان نے بہت پتے کی بات کہی ہے تبھی خدا نے اس کو محفوظ کر لیا اور ہمیں شیطان سے بچنے کی راہ سکھا دی۔وہ شخص جو احسانات کے نتیجے میں زیر بار ہو جاتا ہے اس کے لئے ممکن ہی نہیں ہو تا کہ اپنے محسن کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔پس وہ انسان جو چاروں طرف سے آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں سے اللہ تعالٰی کے احسانات سے گھرا ہوا ہے اس کے اوپر بھی احسانات ہیں اور اس کے نیچے بھی احسانات ہیں۔اللہ تعالیٰ یہ توجہ دلا رہا ہے کہ شیطان ایسے شخص پر حملہ نہیں کر سکتا جو ان احسانات کو ہمیشہ پیش نظر رکھنے والا ہے۔کیونکہ شیطان کہتا ہے میں دائیں طرف سے بھی حملہ آور ہوں گا۔دائیں طرف سے بھی اللہ تعالیٰ کے احسانات کا احساس اس کا دفاع کر رہا ہو گا۔وہ کہتا ہے میں سامنے سے آؤں گا۔سامنے سے بھی اللہ تعالٰی کے احسانات کا احساس اس کا دفاع کر رہا ہو گا اس طرح آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرف اللہ تعالٰی کے احسانات انسان کو گھیرے ہوئے ہیں اور ایک احسان مند ہونے والا دل کبھی بھی اس کے نتیجے میں شیطان کے حملے کا نشانہ نہیں بن سکتا۔تو شیطان نے پتے کی بات یہ کسی کہ میں ناشکروں پر حملے کروں گا اور جتنے ناشکرے ہیں وہ میرے غلام بن جائیں گے۔اور یہ بات درست ہے۔گناہ کا آغاز ناشکری سے ہوتا ہے اور اس کا انجام وہی ہے جس طرح قرآن کریم میں بیان فرمایا گیا کہ تم سب سے پھر میں جہنم کو بھر