ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 456 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 456

456 سیدھے راستہ پر بھی بھٹکانے والا شیطان ملے گا بهر حال خدا نے وہیں فرما دیا کہ ہاں تجھے چھٹی ہے۔قَالَ فَيما الوَيْتَنِي لاقعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اس نے کہا اچھا اگر مجھے اجازت ہے تو میں بتاتا ہوں کہ میں کیا کروں گا۔چونکہ تو نے مجھے گمراہ قرار دے دیا ہے اور ساتھ ہی اجازت دے دی ہے کہ میں تیرے بندوں کو بھٹکاؤں۔اس لئے لا تعدت لهُمْ صراطَ الْمُسْتَقِيمَ میں صراط مستقیم پر بیٹھ جاؤں گا اور ہر وہ شخص جو صراط مستقیم سے گزر رہا ہو گا اس کو بھٹکانے کی کوشش کروں گا۔تو دیکھیں جب ہم دعا کرتے ہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔تو یہ کافی نہیں ہے۔تبھی اس کے بعد یہ تشریح آتی ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الفاينن راستہ تو سیدھا ہے۔مگر اس سیدھے راستے پر بھٹکانے والے لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔وسوسے پیدا کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔طرح طرح کے عذر تراش کر یہ سمجھانے والے بھی بیٹھے ہیں کہ یہ کر لو تو کوئی حرج نہیں وہ کر لو تو کوئی حرج نہیں۔اتنی سی بات سے کیا ہوتا ہے تو صراط مستقیم پر جگہ جگہ اسی طرح یہ شیطان بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح بعض دفعہ عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے رستہ میں بیٹھے ہوئے فقیر ملتے ہیں۔اور طرح طرح کے بہانے بنا کر یہ انسان کو بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ راز ہم پر کھول دیا ہے اگر یہ چھپا رہتا تو ہمارا دھوکہ کھانا شائد کوئی عذر رکھتا۔لیکن یہ سب کچھ بیان ہونے کے بعد ہمارا پھر آنکھیں کھول کر دھوکہ کھانا یہ ہمارے گناہوں کی شدت کو بڑھا دیتا ہے۔کہتا ہے پھر میں کیا کروں گا۔تم لا تيم من بين ايديهم ومِن خَلْفِهِمْ میں پھر ان کے آگے سے بھی آؤں گا اور پیچھے سے بھی آؤں گا۔یعنی پیچھا ہی نہیں چھوڑوں گا۔صرف رستے پر بیٹھا نہیں رہوں گا بلکہ ساتھ ساتھ بھاگوں گا۔اور میں نے دیکھا ہے بچپن میں ایسے فقیر بڑا تنگ کیا کرتے تھے جن کو اگر کچھ نہ دو تو وہ آگے بھی ہوتے تھے پیچھے بھی ہوتے تھے۔رستے روکتے تھے۔پیچھے سے دامن پکڑتے تھے اور لوگوں کا پیچھا چھوڑتے نہیں تھے جب تک ان کو کچھ مل نہ جائے۔تو خدا نے شیطان کا بھی ویسا ہی نقشہ کھینچا ہے کہ صراط مستقیم پر بیٹھا نہیں