ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 455
455 گمراہوں کی یہ دعا ہمارے لئے ایک عبرت ہے۔بہت سے ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ بڑے لوگوں کے تابع ہیں ان کے ہاتھوں مجبور ہیں۔اس لئے ہم اپنے گناہوں کی پاداش نہیں دیکھیں گے۔ہم اپنے گناہوں کی سزا نہیں پائیں گے کہ ہم تو مجبور تھے۔اللہ تعالٰی اس عذر کو رد فرما رہا ہے۔اور فرماتا ہے کہ ہر انسان اپنا خود ذمہ دار ہے۔اگر کسی بڑے آدمی کے پیچھے لگ کر تم بدی کرو گے تو یہ کہنا کافی نہیں ہو گا کہ ہم بڑے آدمی کے اثر کے نیچے مجبور تھے۔بعض دفعہ بد دعائیں بھی قبول ہو جاتی ہیں ایک دعا سورہ اعراف کی آیات ۱۳ تا ۱۹ میں ہے یعنی دعا تو آیت ۱۵ ۱۶ ۷ میں اور ۱۸ میں درج ہے۔لیکن آیات جو درج ہیں یہاں یہ ۱۲ تا ۱۹ ہیں۔دعا یہ ہے۔قال انظرني إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔یہ شیطان کی دعا ہے۔اب اندازہ کریں کہ دعاؤں کا مضمون کتنا پھیلا ہوا ہے۔نعمتوں کی دعائیں کرنے والوں میں سر فہرست حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہیں پھر فرشتے ہیں پھر خدا کے دیگر انبیاء اور نیک لوگ ہر قسم کے اور مغضوب اور ضالین کی دعا کرنے والوں میں سر فہرست شیطان ہے۔اس کی دعا بھی محفوظ فرمائی گئی۔اور بتایا گیا کہ تمہیں اس شیطان سے واسطہ ہے۔کونسی دعا تمہیں نہیں مانگنی چاہیئے اور جس قسم کے شرسے تمہیں واسطہ پڑ گیا اس کی کیفیت کیا ہے۔وہ اپنے لئے خدا سے کیا مانگ بیٹھا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ایک مدت کیلئے اس کی یہ دعا قبول بھی فرما چکا ہے۔اس لئے ہمیں بہت ہی کھلے لفظوں میں متنبہ فرما دیا گیا ہے۔فرمایا ، شیطان نے کہا انظرني إلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ۔اے خدا مجھے اس دن تک مات دے دے جس دن سب لوگ اٹھا کر تیرے حضور حاضر کئے جائیں گے۔قالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ فرمایا ہاں تجھے مہلت دی جاتی ہے۔تو بعض دفعہ بد دعا بھی قبول ہو جاتی ہے۔اور یہ کہتا کہ ہم نے قلان دعا مانگی اور قبول ہو گئی صرف میں کافی نہیں ہے۔اگر بد دعا قبول ہو تو بہت بڑی لعنت ہے۔اگر نیک دعائیں قبول ہوں تو پھر قربت کا نشان ہے نہ کہ بد دعاؤں کا قبول ہو جانا۔اور بددعاؤں کے قبول ہونے کی بھی بعض حکمتیں ہیں۔