ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 436

436 ہلاکت کے اور کچھ نصیب نہ ہو۔۔یہ وہ دعا ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے پھر وہ مشہور بارش برسائی اور زمین نے اپنے چٹے اگلے یہاں تک کہ طوفان نوح آیا۔وہ عظیم سیلاب جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔مگر میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ قرآن سے قطعی طور پر ثابت ہے کہ یہ سیلاب ساری دنیا میں نہیں آیا بلکہ صرف نوح کی قوم پر آیا ہے جو کہ ایک محدود علاقہ میں بہتی تھی اور صرف وہی لوگ ہلاک کئے گئے جن کا ذکر ان آیات میں ملتا ہے جن کو حضرت نوح نے کامل طور پر پیغام پہنچا دیا تھا اور اس پیغام کو ہر طرح سے ہر پہلو سے سننے اور سمجھنے کے باوجود انہوں نے حضرت نوح کا انکار کیا۔یہاں ایک خاص مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے۔لوگ یہ کہتے ہیں کہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے اور قانون قدرت ہی ہے جس کے نتیجہ میں بعض دفعہ زمین سے چٹے اہلنے لگتے ہیں تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ عذاب الہی ہے اور کیا خدا تعالیٰ اپنے قانون کو تبدیل کر کے خصوصیت کے ساتھ نئے قانون جاری فرماتا ہے۔حضرت نوح کی اس تبلیغ میں اس مسئلے کا حل ملتا ہے۔حضرت نوح نے یہ کہا۔نزول السَّمَاءِ عَلَيْكُمْ مُذرا ڈا کہ تم پر خدا کثرت سے بارشیں نازل فرمائے گا۔یعنی بارشوں کا نازل ہونا معلوم ہوتا ہے مقدر تھا اور غیر معمولی طور پر بارشوں کا اس علاقے میں برسنا پہلے سے ہی مقدر ہو چکا تھا اور اس کی تیاریاں ہو چکی تھیں لیکن ساتھ ہی بتایا کہ یہ بارشیں ہلاکت کی نہیں ہوں گی۔قانون قدرت تو ہے مگر اللہ تعالیٰ جس طرح چاہے قانون قدرت کو استعمال فرماتا ہے۔وہ بارشیں نازل فرمائے گا کس لئے ؟ يُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وہ بارشیں تمہارے لئے کثرت اموال کا موجب بنیں گی اور کثرت اولاد کا موجب بنیں گی اور تمہارے لئے ہمیشہ کی جاری رہنے والی نہریں پیچھے چھوڑ جائیں گی۔پس قانون قدرت کو کس طرح استعمال کیا جاتا ہے یہ سوال ہے۔بارشوں نے تو آنا تھا وہ تو پہلے سے ہی بخارات کی صورت میں اٹھ کر کہیں اکٹھی ہو چکی تھیں لیکن کسی طرح برسیں گی اکٹھی برسیں گی یا ٹھہر ٹھر