ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 426 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 426

426 پس قرآن کریم کی تعلیم دو طرفہ ہے اور مکمل ہے اور متوازن ہے۔لیکن یہ بیان کرنے کے باوجود ان احمدیوں کی ذمہ داری کو میں کم نہیں سمجھتا جنہوں نے لیے عرصہ تک پاکستان یا ہندوستان میں تربیت پائی۔بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جو صحابہ کی اولاد ہیں۔بہت سے ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے صحابہ کو خود دیکھا ہوا ہے اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے صحابہ کو دیکھے ہوئے لوگوں سے تربیت پائی ہے۔وہ جب باقی دنیا میں جاتے ہیں تو طبعا انسانی فطرت ہے خواہ یہ دلیل مضبوط ہو یا نہ ہو کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ احمدیت کے سفیر آرہے ہیں اور ان کے نمونہ پر چل کر ہمیں نجات ملے گی۔جب وہ غلط نمونے دیکھتے ہیں تو لازماً ان کو صدمہ پہنچتا ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انعام یافتہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو تقویت دی جاتی ہے وہ ٹھوکر نہیں کھاتے لیکن کمزور پھر بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اس لئے یہ دعا بہت ہی ضروری ہے جو حضرت ابراہیم اور آپ کے صحابہ نے کی کہ رَبَّنَالَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةٌ لذِينَ كَفَرُوا اے خدا ہمیں ان لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ نینجا جنہوں نے کفر کیا یہاں تنذينَ كَفَرُوا کہہ کر اس بات کو کھول دیا کہ وہ لوگ بری الذمہ نہیں ہیں جو ٹھو کر کھا جاتے ہیں کیونکہ انکار ان کی فطرت میں ہے تبھی وہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔پہلے کفر کی حالت ان کے اندر موجود ہے۔اگر وہ نہ ہوتی تو وہ ٹھو کر نہ کھاتے لیکن اس کے باوجود ہم اس بات میں ملوث نہیں ہونا چاہتے۔ہم یہ پسند نہیں کرتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ظالم ٹھو کر کھا جائے۔دوسرا مضمون فتنہ کا یہ ہے کہ دشمن کو ہمیں عذاب میں جتلا کرنے کا موقعہ عطا نہ فرما۔قرآن کریم ان معنوں میں بھی لفظ "فتنہ استعمال فرماتا ہے۔" الَّذِيْنَ فَتَلُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا (البروج : 1) وہ لوگ جنہوں نے مومنوں کو فتنے میں ڈالا اور پھر توبہ نہ کی۔پس فتنہ دو طرفہ ہے۔مومن کی طرف سے فتنہ یہ ہے کہ کوئی شخص ٹھوکر کھا جائے اور خدا کی راہ سے ہٹ جائے کافر کا فتنہ یہ ہے کہ زبردستی عذاب میں مبتلا کر کے کسی کو خدا کی راہ سے ہٹائے۔نتیجہ فتنے کا ایک ہی ہے اگرچہ مختلف سمتوں سے مختلف شکلوں میں فتنہ ظاہر