ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 427
427 ہوتا ہے۔مومن قلم اور تعدی کر کے فتنے کا موجب نہیں بنتا بلکہ اپنی نااہلی کی رانی سے یا غلطیوں کی وجہ سے فتنے کا موجب بن جاتا ہے۔نتیجہ یہی ہے کہ کوئی دیکھئے والا خدا کی راہ سے دور ہو جاتا ہے۔کافر اس قسم کے فتنے میں مومن کو مبتلا کرتا ہے کہ جسمانی عذاب دے کر اس کو خدا کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔پس آج کے دور میں یہ دعا دنیا کے ہر حصے میں برابر اطلاق پا رہی ہے۔کچھ ایسی جگہیں ہیں جہاں غیروں کو احمدیوں کی طرف سے فتنہ در پیش ہے۔ان کی بد اعمالیوں یا کمزوریوں کی وجہ سے غیر فتنے میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔بعض ایسے ملک ہیں جہاں احمدیوں کو غیروں کی طرف سے اذیت اور عذاب کا فتنہ در پیش ہے۔پس دونوں لحاظ سے یہ دعا ایک عالمگیر دعا ہے اور ہر جگہ اپنے اپنے مضمون کے مطابق اثر دکھائے گی۔پس میں چاہتا ہوں کہ احمدی خصوصیت کے ساتھ اس دعا کے ذریعے اللہ تعالٰی سے مدد مانگتے رہیں پھر یہ عرض کی گئی واغفر لنا ربنا ! اے خدا ہمیں بخش انَّكَ انك انت الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ يقيناً تو بہت ہی عزت والی طاقت رکھتا ہے۔لفظ "عزیز" سمجھنے کے لائق لفظ ہے۔اس میں طاقت بھی ہے اور عزت بھی ہے۔جبر نہیں ہے بلکہ ایسی طاقت ہے جس کے نتیجہ میں طاقتور معزز ہوتا ہے اور طاقت کا بے محل استعمال نہیں کرتا اور لازماً غالب آتا ہے۔پس عزیز کا ترجمہ محض غالب یا طاقت والا کرنا درست نہیں بلکہ یہ معنے ہیں کہ اے وہ طاقتور ہستی جس کی طاقت میں عزت و احترام شامل ہے اور "الحکیم " تو حکمتوں والا خدا ہے۔ہمیں بھی عزت والی طاقت عطا فرما اور ہمیں بھی حکمتیں عطا فرما۔دے ایک دعا ہے جس کا ذکر تو بہ النصوح کرنے والوں کے ذکر کے بعد آتا ہے یہ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جو خدا کے حضور سچی توبہ کرتے ہیں ان کو اللہ تعالی ایک نور عطا فرماتا ہے اور وہ نور ان کے آگے بھی بھاگتا ہے ان کے پیچھے بھی ہوتا ہے اور ان کو ہر طرف سے گھیر لیتا ہے فرمایا۔يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُو هُوَ لالَ اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَلَى رَبِّكُمْ أَن يُكْفَرَ عَنْكُمْ سَيَأْتِكُمْ ويُدْخِلَكُم مني تجري من تحتها الأنهرُهُ يَوْمَ لا يُغْرَى اللَّهُ النَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا