ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 36
36 چاہیئے کہ کیا تعلق ہے؟ اس مضمون کو بظا ہر چھوڑ کر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ واذا قرات القران جَعَلَنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالاخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورا اے مجھے صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ! اسی طرح ہم نے تیرے اور ان لوگوں کے درمیان بھی جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے نہ دکھائی دینے والے پردے بنا رکھتے ہیں۔جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ان کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔قرآن ذکر ہے۔مراد یہ ہے کہ جب تو ذکر الہی کرتا ہے اس قرآن کے ذریعے جو خدا نے تجھے عطا کیا ہے تو تو لذتوں کی دنیا میں کھویا جاتا ہے۔کلیتہ " خود فراموش ہو جاتا ہے لیکن یہ لوگ جو سن رہے ہیں ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی ہوتی۔ہم نے ایسے پردے بنا رکھے ہیں گویا ان کی سننے کی WAVELENGTH اور ہے اور عملاً روحانی دنیا میں مختلف WAVELENGTHS ہیں۔مختلف قسموں کی آوازیں ہیں جو صاحب عرفان سمجھ سکتے ہیں اور جن کو عرفان نصیب نہ ہو وہ نہیں سمجھ سکتے تو دیکھئے قرآن کریم نے ان دو انتہاؤں کو کس طرح دو چھوٹی سی آیات میں بیان فرما دیا۔ایک طرف انسان کی یہ بد نصیبی اس کو دکھائی کہ ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تم سے نیچے جتنی مخلوقات ہیں وہ سب تسبیح اور حمد میں مصروف ہیں مگر تمہیں دیکھنے کے باوجود ان کی تسبیح سنائی نہیں دیتی اور سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کس طرح کر رہے ہیں اور خود تم اپنی ذات میں بھی تسبیح اور حمد سے ایسے غافل ہو گئے ہو کہ جب خدا تعالیٰ کی حمد بیان کرنے والا ایسا آیا جو سب دنیا میں حمد بیان کرنے والوں سے آگے بڑھ گیا۔جب خدا تعالیٰ کی تسبیح کرنے والا ایسا وجود ظاہر ہوا کہ اس جیسا کبھی نہ پہلے پیدا ہوا تھا نہ آئندہ پیدا ہو سکتا ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس کے متعلق فرمایا کہ ذكرًا رَسُولاً (سورة الطلاق : (۱۲) وہ مجسم ذکر الہی ہے۔تم اس کی باتوں سے کھلا کھلا ذکر الہی سنتے ہو اور تب بھی تمہارے اور اس کے درمیان پردے پڑے ہوئے ہیں۔کائنات میں سب سے اندھا جانور پس کائنات میں سب سے زیادہ اندھا جانور اس صورت میں انسان بن جاتا ہے نہ خود تسبیح اور حمد کا سلیقہ نہ دوسروں کو دیکھ کر وہ کچھ سیکھتا ہے اور ان کی سمجھ بھی نہیں