ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 37
37 آتی۔ساری کائنات خدا کی حمد اور تسبیح کرنے والوں سے بھری ہوئی ہے۔ان کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ان کی روشنیاں جل رہی ہیں اور عجیب مناظر ہیں جو تمام دنیا میں کائنات میں ہر طرف پھیلے پڑے ہیں۔ہواؤں میں بھی ہیں۔خشکی کے اوپر بھی زمین پر چلنے والوں میں بھی اور سمندر کی گہرائیوں تک بھی اور دن رات وہ جلوہ افروزیاں ہو رہی ہیں۔خدا تعالیٰ کے جلوے مختلف شکلوں میں ظاہر ہو رہے ہیں مگر دیکھنے والوں کو بھی دکھائی نہیں دے رہا، سننے والوں کو بھی سنائی نہیں دے رہا اور پھر ایسے اندھے اور غافل ہو جاتے ہیں کہ جب حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم ان پر ذکر الہی پڑھتے ہیں تو ان کے اور ان کے درمیان ایک پردہ آجاتا ہے۔اور کچھ سمجھ نہیں آتی۔خدا کے ذکر کا وسیع تر مضمون پس اگر نماز میں لذت پیدا کرنی ہے تو نماز سے باہر ذکر الہی کا سلیقہ سیکھیں۔ولد عز الله اكبر (سورۃ العنکبوت : آیت (۴۰) کا ایک یہ بھی معنی ہے کہ نماز میں تو تم تھوڑی دیر ٹھرتے ہو لیکن خدا کے ذکر کا مضمون بہت وسیع تر ہے۔ہر طرف پھیلا ہوا ہے اور ذکر کو سمجھو تو پھر جب تم نمازوں کی طرف لوٹو گے تو ہر دفعہ آنے میں تمہیں ایک نئے خدا سے شناسائی ہوگی۔خدا تو وہی ہو گا لیکن اس کے نئے جلوے دیکھ کر تم آرب ہوگے۔اس مضمون کو اگر اس مضمون کے ساتھ ملالیں جو دل کے اندر اپنے وجود پر اپنے حالات پر غور کرنے کے ذریعے خدا دکھائی دیتا ہے تو اس کو کہتے ہیں اندر اور باہر دونوں کا روشن ہو جاتا۔صوفیاء جو باتیں کرتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں پتہ نہیں کس قسم کی روشنی ہے آنا فانا مل گئی۔کہتے ہیں جی! ہمارے تو چودہ طبق روشن ہو گئے۔ہمارا تو باہر بھی روشن ہو گیا۔ہمارا تو اندر بھی روشن ہو گیا۔وہ کوئی ایسی روشنی نہیں ہے جو اچانک بلب جلا کر ان کو نصیب ہو جاتی ہے۔وہ عمر بھر کے ذکر الہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی روشنیاں ہیں جو باہر سے بھی دکھائی دیتی ہیں اور اندر سے بھی دکھائی دیتی ہیں اور وہ بڑھتی رہتی ہیں۔اور ان کے اندر ایک نئی چمک پیدا ہو جاتی ہے۔نئے نئے رنگ ظاہر ہونے لگتے ہیں۔پس وہ سمندر کی گہرائیاں بھی جو بعض لوگوں کے لئے تاریک تر