ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 305 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 305

305 ہی تو ہے اور تو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جس کا تو ہو جائے اس کے نام مٹا نہیں کرتے۔اس کی ذمہ داریاں اس کے بعد بھی ادا ہوا کرتی ہیں۔پس اگر تو اولاد نہ دے تو ہم ناراض نہیں، ہم خفگی محسوس نہیں کرتے ، تمنا ہے اگر عطا کر دے تو بہتر ہے ورنہ تو بهترین وارث ہے، تیرے ہوتے ہوئے ہم کسی قسم کے شکوے کا حق نہیں رکھتے چنانچہ فرمايا ما ستجبنا له وَوَهَبْنَالَة يَخي واصلحنا له زوجه پس ہم نے اس کی دعا کو قبول فرمالیا اور اسے ہم نے بیٹی بطور تحفہ عطا کیا واضتحنا له زوجه اور اس کی بوڑھی بانجھ زوجہ کی اصلاح فرما دی۔: إِنَّهُمْ كَانُوا يُسْرِعُوْنَ فِي الخيراتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا یہاں بھی قبولت دعا کی حکمت واضح فرما دی کہ کیوں بعض لوگوں کی دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔فرمایا الهُمْ كَانُوا يُسْرِعُون فی الخیرات یہ وہ لوگ تھے جو محض ضرورت کے وقت میرے پاس نہیں آیا کرتے تھے بلکہ ہمیشہ میری محبت کے نتیجہ میں نیک کاموں میں سبقت لے جایا کرتے تھے۔بنی نوع انسان کی خدمت کیا کرتے تھے جو بھی بھلائی کا موقع آتا تھا اس سے چوکتے نہیں تھے بلکہ آگے بڑھ بڑھ کر نیک کاموں میں حصہ لیا کرتے تھے وين مُوْنَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا اور ہمیشہ مجھے یاد کیا کرتے تھے اور میرے سے دعائیں کیا کرتے تھے رغبت رکھتے ہوئے بھی اور خوف رکھتے ہوئے بھی۔بعض دفعہ میری رضا کی تمنا میں اور لالچ میں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور بعض دفعہ اس خوف میں دعا کیا کرتے تھے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ ہو جائے کہ خدا ناراض ہو جائے اور پھر فرمایا وَكَانُوا لنا خونین اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ عاجزی کے ساتھ پیش آیا کرتے تھے۔بہت ہی خشوع و خضوع کرنے والے تھے پس جن کا یہ دستور ہو ان کی دعائیں جو غیر معمولی حالات میں قبول ہوئی ہیں تو اس کا یہ پس منظر ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ذکریا کے حق میں خدا تعالیٰ نے ایسا اعجازی نشان دکھا دیا۔ہم دعا مانگتے ہیں۔ہماری بوڑھی بیوی تو کچھ بھی نہیں جنتی، ہماری بانجھ عورت کو تو کچھ نہیں ہوتا ہماری کمزوریاں تو دور نہیں ہوتیں، ان کے لئے نصیحت ہے کہ خدا سے غیر معمولی طلب کرنے والے اپنے اندر بھی غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کیا کرتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کو خدا