ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 304
304 میرے مرنے کے بعد وہ اکیلی رہ جائے گی تو کوئی اس کی حفاظت کرنے والا نہیں ہو گا اس سے کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا تھا کہ حضرت ذکریا کے نزدیک ظاہری اولاد کی ظاہری حکمتوں کے پیش نظر اہمیت ہے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر میرا وارث نہ ہوا تو میرے پیچھے میری بیوی گویا لاوارث رہ جائے گی تو حضرت زکریا چونکہ خدا تعالیٰ سے بے انتہاء پیار کرنے والے اور اس پر بے حد تو کل کرنے والے انسان تھے اس لئے اس غلط فہمی کے ازالہ کیلئے ان کی ایک اور دعا بھی قرآن کریم میں بیان فرما دی ، اس میں وہ کہتے ہیں کہ میری خواہش تو یہی ہے کہ میں اکیلا نہ رہوں، میرے بعد میری اولاد ضرور آئے لیکن یہ معنی نہیں ہیں کہ اولاد نہ ہوئی تو میرے پیچھے میری بیوی اور باقی جو بھی سلسلہ ہے وہ لاوارث ہو جائے گا وَانتَ خَيْرُ الوارثین ہر شخص کے بعد تو ہی اصل وارث ہوا کرتا ہے اور اس کی ہر جائیداد ہر عزت ہر دولت اور ہر ذمہ داری میری طرف لوٹ جاتی ہے۔یہاں وارث کے دو معنی ہیں۔ان دونوں معنوں میں آپ کو دعا کرنی چاہئیے۔یعنی ان دونوں معنوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے دعا کرنی چاہیے۔ایک وارث وہ ہے جو جائیداد پالیتا ہے اور ایک وارث وہ ہے جو ذمہ داریاں ورثے میں پاتا ہے اور سچا ارث وہ ہوتا ہے جو انکو ادا کرتا ہے تو وانت خير الوارثین میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اے خدا جو کچھ میرا ہے میرا تو ہے ہی کوئی نہیں۔کسی کا بھی کچھ نہیں ، ہم تو مر کز یہاں سے چلے جانے والے ہیں، جو کچھ تو نے ہمیں عطا کیا ہے وہ سب تیری طرف واپس لوٹتا ہے اور تو ہی ہے جو باقی رہے گا اور ہر چیز آخر تیری ہی ہوگی۔دوسرا معنی یہ ہے کہ دنیا والے وارث تو اپنی ذمہ داریاں ادا کریں نہ کریں، جو تجھ پر توکل رکھتے ہیں ان کا صحیح وارث تو ہی ہوا کرتا ہے اور انکے سارے بوجھ تو اٹھا لیتا ہے انکے قرضے اتارنے کا بھی تو ہی انتظام کرتا ہے، انکی دیگر ذمہ داریوں کا بھی تو ہی ذمہ دار بن جاتا ہے۔پس وارث ان دونوں معنوں میں ہے۔قبولیت دعا کی حکمت پس وہ لوگ جو اولاد کی تمنا رکھتے ہیں ان کو یہ دعا ان معنوں میں کرنی چاہئے کہ ہم تمنا تو رکھتے ہیں مگر یہ مطلب نہیں ہے کہ اولاد نہیں ہوگی تو نام برباد ہو جائیں گے ہمارا تو