ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 297

297 ایک بستی میں جس کی طرف آپ مبعوث ہوئے تھے خدا کا پیغام لے کر گئے اور بہتی والوں نے انکار کیا تو اللہ تعالی نے آپ کو خبر دی کہ اگر اس بستی نے توبہ نہ کی اور استغفار سے کام نہ لیا تو اس عرصے کے اندر اندر یہ ہلاک ہو جائے گی جیسا کہ دیگر انبیاء کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے اس اطلاع کے بعد حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام وہاں سے ہجرت کر کے کچھ فاصلے پر جاکر ٹھہر گئے اور آنے والوں سے اس بستی کا حال پوچھتے رہے یہاں تک کہ مقررہ وقت گزر گیا۔حضرت یونس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس عرصے میں اس بہتی نے نہ صرف توبہ کی بلکہ ایسے دردناک طریق پر اللہ تعالٰی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی کہ ارحم الرحمین خدا ایسی التجاؤں کو رد نہیں فرمایا کرتا۔دیگر روایات اور بائیل کا بیان چنانچہ بیان کیا جاتا ہے لیکن یہ قرآن کریم کا بیان نہیں یہ روایات کا اور بائیل کا بیان ہے کہ بستی کے لوگوں نے حضرت یونس کے نکل جانے کے بعد یہ خیال کیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، یہ خدا کا نیک بندہ تھا اس کی باتیں ضرور پوری ہونگی اس لئے نجات کی صرف یہ راہ ہے کہ ہم سارے اس شہر کو چھوڑ کر ہا ہر میدان میں نکل جائیں اور خدا کے حضور سخت گریہ و زاری کریں اور گریہ و زاری کا اثر پڑھانے کیلئے اور لوگوں کے دلوں میں درد پیدا کرنے کیلئے انہوں نے یہ ترکیب کی کہ ماؤں نے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلایا اور بکریوں کے بچوں کو تھنوں سے جدا رکھا گیا اور باہر میدان میں جب اس حالت میں گئے تو بچوں کے رونے اور چلانے اور جانوروں کے جو بھوکے تھے اور پیاسے تھے شور مچانے کے نتیجے میں ایک کہرام مچ گیا اور ایسی درد ناک حالت ہوئی کہ وہ سارا بڑا میدان جس میں ایک لاکھ کے لگ بھگ شہر کے لوگ بڑے چھوٹے موجود تھے ، قیامت کا نمونہ بن گیا اور اس طرح وہ روئے اور چلائے کہ جیسے جانوروں کو ذریج کیا جاتا ہے اور وہ تڑپتے ہیں تو چنانچہ خدا تعالٰی کو اس حالت پر رحم آگیا اور خدا نے اپنے وعید کو ٹال دیا۔