ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 298
298 قرآن کی روشنی میں واقعات کا خلاصہ ، چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ کاش باقی لوگ بھی جن کو خدا کے انبیاء نے ڈرایا یونس کی قوم کی طرح ہوتے۔وہ گریہ و زاری کرتے وہ توبہ و استغفار کرتے ہم ان کو ، بھی بخش دیتے اور ان کا دنیا میں نفع کی حالت میں رہنا لمبا کر دیا جاتا، یعنی اچھی حالتیں ان کی لمبی کر دی جاتیں اور ان کو خدا کا عذاب نہ پکڑ لیتا تو یہ وہ واقعہ ہے، حضرت یونس چونکہ اس بات سے بے خبر تھے جب وقت معینہ گزر گیا اور ایک دیہاتی جو اس شہر سے آرہا تھا اس سے حضرت یونس نے پوچھا کہ کیوں جی! بتاؤ اس بستی کا کیا حال ہے؟ تو اس نے کہا وہ ٹھیک ٹھاک ہے بس رہے ہیں۔اس پر حضرت یونس اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ وہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میرے ذریعے انکو یہ وعید دیا تھا کہ تم ہلاک کئے جاؤ گے اور ہلاک نہیں کیا تو شرم کے مارے وہ بستی کو نہیں لوٹے۔قرآن کریم اس کے بعد کے واقعات کو بہت ہی لطیف انداز میں بیان فرماتا ہے۔فرماتا ہے ان يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ یا د رکھو کہ یونس مرسلین میں سے تھا۔اس گواہی کے ساتھ اس کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے متعلق ایسی بات نبه آمد و یا جو مرسلین کی شان کے خلاف ہے۔اس کے متعلق یہ نہ خیال کر لینا کہ خدا نے اس کو حکم دیا کہ تو فلاں جگہ جا اور وہ نا فرمانی کرتے ہوئے کسی اور جگہ کی طرف چل پڑا تو مرسل وہ بہر حال تھا۔مرسلین سے بھی بعض دفعہ کچھ غفلتیں ہو جاتی ہیں۔عام انسان اس سے سینکڑوں گنا بڑی غفلتیں کرتا ہے اور پکڑا نہیں جاتا کیونکہ اس کے معیار کے مطابق وہ گناہ نہیں بنتا لیکن جتنا بلند مقام ہو اتنا ہی داغ نمایاں ہوتا جاتا ہے اور معمولی داغ بھی سفید کپڑوں پر بڑا ہو کر دکھائی دیتا ہے۔پس یہ مضمون ہے جس کی طرف قرآن کریم اشارہ فرما رہا ہے۔ان يؤنس لمنَ الْمُرْسَلِينَ که یونس بهر حال مرسلین میں سے تھا۔خدا کے برگزیدہ بندوں میں سے تھا جس کو خدا نے اپنا پیغام بر بنا کر بھیجا تھا۔اس لئے جو کچھ بھی اس سے غلطی ہوئی وہ مرسلین میں پھر بھی رہے گا اور سنئے والوں پر واجب ہے کہ وہ ادب کے تقاضوں کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں ان ابق الی الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ جب وہ بھاگتا ہوا ایک بھرے ہوئے جہاز میں داخل ہوا۔