ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 296
296 عرصہ کے لئے وہاں رہے ہوں۔اس بات کی وضاحت کی اس لئے خصوصیت سے ضرورت پیش آئی ہے کہ عموما" احمدی عیسائیوں کے ساتھ گفت و شنید کرتے وقت اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ جیسا کہ حضرت یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہے اور زندہ رہے اور زندہ حالت ہی میں باہر نکالے گئے اسی طرح حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام تین دن کی آزمائش کے بعد جس میں چند گھنٹے صلیب پر کلک لٹکنا اور بقیہ عرصہ ایک قبر نما جگہ میں رہتا ہے آپ زندہ وہاں سے باہر نکلے تو میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے جس بات کا ذکر نہیں کیا وہ حکمت سے خالی نہیں۔تین دن کا بائبل میں جو ذکر ہے وہ یقیناً غلط ہے۔تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں کوئی چیز خدا کے قانون کے مطابق زندہ نہیں رہ سکتی اور اس عرصے میں ہڈیاں گل سڑ کے ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔یعنی ہر قسم کا گوشت گل سڑ کے ختم ہو جاتا ہے صرف ہڈیوں کا پنجر باقی رہ جاتا ہے اور اس کے علاوہ دم گھٹنا اور تیزابی حالتیں یہ تو سوچنے والی بات ہی نہیں ہے۔پس قرآن کریم نے تین دن کا جو ذکر نہیں کیا وہ حکمت سے خالی بات نہیں ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے نگلا ہے اور اس کیفیت میں حضرت یونس نے بے اختیار یہ دردناک دعا کی ہے کہ اے خدا میں کن ظلمات میں پھنس گیا ہوں۔یہ میری اپنی ہی ظلمات ہیں، اپنے گناہوں کی ظلمتیں ہیں اور میں اب تجھ سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے، میں اپنے جرم کا اقرار کرتا ہوں تو اسی وقت قرآن کریم کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے انکائی لی ہے اور حضرت یونس کو اگل دیا ہے اور یہ اتنی سی دیر ہوگی کہ سمندر کے اتنے پانی میں جہاں وہ بڑی مچھلی آجاتی ہے صرف اس سے ساحل تک پہنچتے پہنچتے کا عرصہ ہے کیونکہ آپ کو ساحل کے اوپر اگلا گیا ہے۔پھر آپ نے وہاں چند دن ایک بیل کے سائے میں گزارے۔اسی بیل کا پھل کھایا جس نے آپ کو شفاء بھی بخشی اور کچھ توانائی بھی دی اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ نے ہجرت کے بعد نبوت کا عرصہ شروع کیا۔پس خلاصہ جو قرآن کریم کی رو سے بنتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یونس نبی نینوا یا کسر