ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 275 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 275

275' نام کی کوئی مثال اس سے پہلے دکھائی نہیں رہی۔دنیا میں کبھی کسی نے اپنے بیٹے کا یہ نام نہیں رکھا جو آج ہم تمہیں دے رہے ہیں پس یہ ایک غیر معمولی بیٹا ہو گا اور بے مثال جیسا کہ خود ہو گا ویسا ہی اس کا نام ہوگا اسمه يخلى اور اس کا نام بھی ہے۔اب بجی نام کا تو مطلب ہے زندہ رہنے والا۔بھٹی نام کیوں رکھا گیا؟ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ان کی شہادت کی بھی خوش خبری تھی۔حضرت بھی شہید ہوئے ہیں اور شہداء کے متعلق اللہ تعالی کی گواہی ہے کہ وہ زندہ ہیں اور لفظ حی ان پر اطلاق پاتا ہے تم ان کو بے وقوفی سے مردہ سمجھ رہے ہو لیکن وہ ہمیشہ کی زندگی پانے والے ہیں۔پس اللہ تعالٰی نے بعض حکمتوں کے پیش نظر حضرت ذکریا کو جو اولاد سے محروم رکھا تھا ان حکمتوں کے پیش نظر ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو بھی اولاد سے محروم رکھا گیا۔اور ان حکمتوں کا تقاضہ یہ تھا کہ یہ سلسلہ آگے نہ چلے کیونکہ یہ سلسلہ تبدیل ہونے والا تھا اس لئے اللہ تعالٰی نے ان حکمتوں کو تو تبدیل نہیں فرمایا لیکن دعا کو پھر بھی قبول فرمالیا اور حضرت یحیٰ کے متعلق فرمایا کہ وہ زندہ رہے گا۔یہاں زندگی کی یہ خوش شہری ہے کہ جب تک تو رہے گا تو اسے زندہ دیکھے گا۔جب تک تیری بیوی زندہ رہے گی وہ اس کو زندہ دیکھے گی اور تم دونوں کو اس بچے کی طرف سے کوئی دکھ نہیں پہنچے گا۔تم دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی، بعد میں ہم اسے وہ پیشگی کی زندگی عطا کریں گے جو شہادت کے ذریعہ ہوتی ہے۔اولاد پانے کی دعا کرنے والوں کو نصیحت پس دعاؤں پر اگر آپ غور کریں جو قرآن کریم میں محفوظ کی گئیں ہیں تو عظیم الشان حکمتوں کے سمندر ہیں جو کوزوں میں بند کئے گئے ہیں اور دعائیں قبول کیوں ہوتی ہیں؟ اور کس وجہ سے ہوتی ہیں؟ وہ تمام باتیں وہ مصلحتیں بھی ان دعاؤں کے اندر مضمر ہیں، بظاہر نظر سے چھپی ہوئی ہیں لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو سمجھ آسکتی ہے۔پس وہ والدین جو اپنے لئے ایسی اولاد کی دعا کرتے ہیں کہ جو محض ایک طبعی اتنے کی دعا ہوا کرتا ہے کہ ہمیں بیٹا دے، ہمیں بیٹا دے، ہمیں بیٹا دے کیوں دے؟ اس سے کوئی بحث انکو نہیں ہوتی۔نیک ہو یا بد ہو۔اس سے انکو کوئی بحث نہیں ہوتی وہ