ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 274 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 274

274 انتا ہی آسان ہو جاتا ہے۔جب ہم انعام پانے والوں کی دعاؤں کا ذکر قرآن کریم میں پڑھتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ وہ رستے آسان ہوئے کیسے تھے؟ تو اب سنئے اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میرے اس بندے نے مجھ سے یہ دعا کی۔میری ہڈیاں نرم پڑ چکی ہیں۔میرا سر سفیدی سے بھڑک اٹھا ہے ولذا لن يدعَائِكَ رَب شَدِیا اے اللہ آج تک میں (تجھ سے تیری رحمت سے مایوس نہیں ہوا۔وَانِي خِفْتُ الْمَوَالِي مِن وراه في میں اپنے بعد اپنے شریکے سے ڈر رہا ہوں کہ وہ پتہ نہیں ہم لوگوں سے کیا سلوک کریں گے وكانت امراتي عاقرا اور میری بیوی بانجھ ہے اس کا کوئی بچہ نہیں جو اس کی نگہداشت کر سکے ، اس کے لئے کھڑا ہو سکے اس کی حمایت کر سکے۔یہ تنہا اس دنیا میں رہ جائے گی نصب لي من لدنك وليا مجھے اپنی جناب نِ جسے کوئی ولی کوئی دوست عطا فرما۔اور ولی کی دعائے اس کی نیکی کی دعا بھی ساتھ ہی مانگ لی کیونکہ بد اولاد نیک لوگوں کی ولی نہیں ہوا کرتی۔کیسی فصاحت و بلاغت ہے۔حضرت زکریا کی دعا ، واقعی یہ جو کہتے ہیں کہ سنہری حرفوں سے لکھنے کے لائق ہے مگر سنہری حرف کیا چیز ہیں جس دعا کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام میں محفوظ کر لیا اس سے زیادہ روشن اور کوئی چیز کوئی روشنائی اس کو ہمیشہ کے لئے قائم نہیں رکھ سکتی۔پھر کہا محمد فرزین ويرث من الي يعقوب کہ میں ایسی اولا د چاہتا ہوں جو میرا اور آل یعقوب کا ورثہ پائے اور یہ ورثہ نیکیوں کا وریہ تھا۔کوئی دنیاوی دولتوں کا ورنہ نہیں تھا واجْعَلْهُ رَت رضی اور ایسا اس کو بنا جس سے تو راضی ہو جائے۔اب جیسا کہ یہ دعا ہے، ظاہر ہے کہ یہ دعا یوں لگتا ہے کہ نا مقبول ہو ہی نہیں سکتی جس طرح اس کا مضمون اٹھایا گیا ہے، جس طرح اس کا آغاز کیا گیا ہے، پڑھتے پڑھتے انسان کا دل یقین میں ڈوب جاتا ہے انسان کا دل بے اختیار گواہی دینے لگتا ہے کہ نا ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اس دعا کو نا منظور فرمادے چنانچہ اس کے معا" بعد یہ نہیں فرمایا کہ پھر اللہ تعالی نے اس کی دعا سن کی بلکہ بے ساختہ جواب دیا ہے کہ ہر گیتار تبرك بقلم اے میرے بندے زکریا ہم تجھے ایک غلام کی خوشخبری دے رہے ہیں : اِسْمُهُ يعنی اس کا نام بھی ہوگا لَمْ تَحتل الدين قبل سينا اس