ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 175
175 ایک عاشق صحابی (حضرت سعد بن ریخ) جب ایک عرصے تک آپ کو دکھائی نہیں دیتے اور آپ ان کے دل کی کیفیت سے باخبر تھے تو آپ نے کسی سے کہا کہ تلاش کرو اور دیکھو کہ وہ کہاں ہے۔اس نے آوازیں دیں۔اس نے تلاش کیا لیکن کوئی جواب نہیں پایا۔آخر جب اس نے یہ آواز دی کہ خدا کا رسول تجھے بلا رہا ہے تو زخمیوں اور لاشوں کے ڈھیر کے نیچے سے ایک کراہتی ہوئی آواز اٹھی۔میں حاضر ہوں۔میں یہاں ہوں۔وہ جو پہلے اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ جواب دے سکتا۔جب اس کے کان میں یہ آواز پڑی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تجھے تلاش کر رہے ہیں اور ان کے کہنے پر میں آیا ہوں تو خدا جانے کہاں سے اس نے وہ طاقت اکٹھی کرلی اور لبیک لبیک کی آواز اٹھی۔تب اس نے یہ عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں کہ آخری سانس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قدموں میں لوں۔مجھے وہاں تک پہنچا دو۔پس اس حالت میں اس نے جان دی کہ اس کا سر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مقدس قدموں میں پڑا ہوا تھا۔پس قرآن کریم جن راہوں کو انعام پانے والوں کی راہیں قرار دیتا ہے۔یہ کوئی افسانوی راہیں نہیں ہیں۔یہ تاریخی حقیقوں سے تعلق رکھنے والی راہیں ہیں۔ان راہوں پر خدا کے پاک بندے چلے ہیں اور ان کے ذکر سے قرآن کریم منور ہے۔پس جب ہم یہ دعا مانگتے ہیں تو ذہن میں ایسے وجودوں اور ایسی قربانی کرنے والوں کے تصورات بھی زندہ ہونے چاہیں۔یہ قربانی کرنے والوں کے تصورات ہیں جو ہماری دعاؤں کو زندہ کریں گے ان سے خالی دعائیں خالی رہیں گی۔ذکر کے ساتھ ذکر میں جان پڑتی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کے ساتھ ان تمام پاک بندوں کا ذکر ہمارے ذہن میں گردش کرنا چاہیئے۔ہمارے قلوب میں اس ذکر کے ساتھ ایک تازگی پیدا ہونی چاہیئے۔ایک جان پڑنی چاہئیے۔پہلچل برپا ہو جانی چاہیے اور ان تصورات کے ساتھ اپنی دعاوں کو باندھ کر ہم خدا کے حضور پیش کریں گے تو یہ دعائیں قبولیت کا مقام حاصل کریں گی اور بعض ایسی کیفیات ان میں شامل ہو جائیں گی جن کو خدا کبھی رد نہیں کر سکتا۔اس کی رحمت سے بعید ہے کہ ان کیفیات والی دعاؤں کو وہ رد