ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 14
14 پس ایاک نعبد میں تعلق باللہ کی ماں بیان ہو گئی ہے یعنی اس ایک لفظ کے اندر اس ایک محمد میں کہ اے خدا تیرے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔تیری کریں گے اور صرف تیری کریں گے۔تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔کسی اور کی عبادت نہیں کرتے۔غیر کی عبادت کا انکار کرتے ہیں۔اس اقرار میں ہر تعلق باللہ کی جان ہے اور اس کو آپ جتنا وسیع کرتے چلے جائیں گے اتنا ہی زیادہ آپ اس کے مطالب سے استفادہ کرتے چلے جائیں گے۔اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بھی بظاہر آپ فیروں سے سوال بھی کرتے ہیں۔بچہ ماں سے سوال کرتا ہے۔باپ سے چیز مانگ لیتا ہے۔دوست دوست سے چیز مانگ لیتا ہے۔اس میں اور اتياكَ نَسْتَعِین میں فرق کیا ہے۔اس فرق پر جب آپ غور کریں گے تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ دوست کی حیثیت ماں کی حیثیت باپ کی حیثیت بچے کی حیثیت جب تک یہ حیثیتیں اصل مقام پر قائم نہ ہوں اور خدا کے مقابل پر ان کے مقام انسان کے پیش نظر نہ ہوں اگر ان کے ضائع ہونے کے باوجود خدا باقی رہتا ہو اور ان کا حسن اور ان کی خوبیاں یوں دکھائی دیتی ہوں جیسے خدا کا حسن اور خدا کی خوبیاں ان میں منعکس ہو رہی ہوں تو پھر ان سے مانگنا خدا ہی سے مانگتا بن جائے گا اور غیر اللہ سے مانگنا نہیں رہے گا لیکن اگر ان کے مقام بگڑے ہوئے ہیں اور ان کے مقامات خدا تعالیٰ کے مقام سے الگ ہوں اور اس راہ پر نہ ہوں تو پھر یہ شرک کے آلات بن جائیں گے۔عرفان بڑھنے سے نماز میں لذت پیدا ہوتی ہے پس قبلے کو قبلہ نما کہنا اس مضمون کی وضاحت کر رہا ہے۔جب ایک عبادت کرنے والا قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو اس لئے وہ مشرک نہیں ہے کہ قبلہ جس طرف بنا ہوا ہے وہاں موجود عمارت اس کے تصور میں ہی نہیں آتی گویا وہ ہے ہی نہیں صرف منہ اس طرف کیا جاتا ہے لیکن نشانہ بالاخر خدا کے قدم ہیں جن کی عبادت کے سامنے انسان اپنا سر جھکاتا ہے۔پس اس پہلو سے جب انسان حمد کے مضمون پر نگاہ ڈالتا ہے اور گردو پیش سب پیاری چیزوں کو اس طرح سمجھنے لگتا ہے کہ ان کی اپنی کوئی حقیقت نہیں ، میرے خدا ہی کا حسن ہے تو اس کے بعد جب ان سے استعانت کرتا ہے تو اس