ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 13

13 شانیں دیکھنے میں استعمال کر سکتا ہے۔اور اگر چہ صرف چار صفات کا ذکر ہے مگر امر واقعہ یہ ہے کہ ان چار صفات میں خدا تعالٰی کی تمام صفات موجود ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ اس چھوٹی سی سورۃ کو اتم الکتاب کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں خدا تعالٰی کی تمام صفات کی بحث ہے۔پس کیسے اسے ام الکتاب کہہ سکتے ہیں اگر اس میں خدا تعالیٰ کی صفات میں سے صرف چار بیان ہوں۔سوائے اس کے کہ وہ چاروں صفات اتم الصفات ہوں اور یہی امر واقعہ ہے۔ان چار صفات کے ایک دوسرے کے عمل کے ساتھ اور ان کی جلوہ گری میں آپ کو خدا تعالیٰ کی تمام صفات دکھائی دے سکتی ہیں۔انسانی زندگی کا ہر عمل عبادت میں بدل سکتا ہے پس ام الکتاب کا صرف یہ مطلب نہیں کہ سورۂ فاتحہ میں مضامین ہیں۔ان میں ہر لفظ جو بیان ہوا ہے وہ ماں کا درجہ رکھتا ہے۔خدا تعالٰی کی چار صفات اتم الصفات ہیں۔عبادت کا مضمون خدا سے تعلق کے لحاظ سے ہر مضمون کی ماں ہے۔یہ وہ رستہ ہے جس کے ذریعے خدا سے تعلق قائم ہوتا ہے اور اس کے بغیر کچھ بھی باقی نہیں رہتا تو زندگی کے کسی دائرے میں بھی خدا سے تعلق ہو خواہ بظا ہر آپ نماز پڑھ رہے ہوں یا نہ پڑھ رہے ہوں وہ حقیقت میں عبادت ہی ہے جس کے ذریعے یہ تعلق قائم ہو سکتا ہے اور اس مضمون کو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمارے سامنے اس طرح کھول کر بیان فرما دیا جب فرمایا کہ اگر تم بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالتے وقت یہ سوچتے ہوئے لقمہ ڈالو کہ خدا راضی ہو گا اور خدا چاہتا ہے کہ تم اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو اور اس سے حسن سلوک کرو تو تمہارا یہ فعل بھی عبادت بن جائے گا۔تو اب دیکھ لیں اس چھوٹی سی مثال میں ہر انسانی زندگی کے ہر عمل کو عبادت میں تبدیل کرنے کا کتنا عظیم الشان نسخہ بیان فرما دیا گیا۔اور تعلق صرف نماز کے ذریعہ قائم نہیں ہو تا بلکہ ہر آن انسان کے گردو پیش ہونے والے واقعات اور اس کے تجارب کے ساتھ خدا تعالٰی کی عبادت کا ایک تعلق ہے۔انسان اپنے گردو پیش میں ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر جو بھی رد عمل دکھاتا ہے وہ رد عمل عبادت کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے اور عبادت سے دور بھی ہٹ سکتا ہے۔