ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 159
159 پس کسی قوم سے نفرت کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ بعض برائیوں سے نفرت کی تعلیم دی گئی اور ان کی مثالیں آپ کے سامنے معاملے کو آسان بنانے کے لئے رکھی گئیں۔ایک اور وجہ اس دعا کو زیادہ وسیع معنوں میں لینے کی یہ ہے کہ قرآن کریم سے تو پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ہر جگہ خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے پیغام بھیجے۔رسول مبعوث فرمائے۔خوش خبریاں دینے والے بھیجے۔ڈرانے والے بھیجے اور ان کی قوموں نے بھی ان سے ایسے سلوک کئے کہ بعض انعام پانے والی بن گئیں اور بعض مغضوب ہو گئیں اور بعض ضالین ٹھہریں۔تو اگر اس دعا کو یہود اور عیسائیوں کے ذکر پر ہی محدود کر دیں گے تو ان مشرکین کا کیا بنے گا جنہوں نے حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ شرک نجس ہے اور وہ ہر دوسری چیز کو معاف فرمادے گا مگر شرک کو معاف نہیں فرمائے گا اور ان قوموں کا کیا بنے گا جو ہندوستان یا چین یا جاپان یا دوسری دنیا میں شرک میں مبتلا ہیں اور مبتلا رہی ہیں یا دوسرے کئی قسم کے ایسے گناہوں میں ملوث ہوئیں جو خدا کے اور بنی نوع انسان کے غضب کا نشانہ بنانے والے گناہ تھے اور پھر ان قوموں کا کیا بنے گا جو دنیا کے مختلف خطوں میں، نئی دنیا میں یا پرانی دنیا میں پیدا ہوئیں اور خدا کے حضور ضالین ٹھریں۔پس اس مضمون کو اتنے محدود تصور کے ساتھ اپنے ذہن میں نہ جائیں بلکہ اس وسیع تصور کے ساتھ ذہن میں جمائیں اور ساری دنیا میں ہر وہ قوم جو بعض غلطیوں کی وجہ سے خدا کی نظر میں مغضوب ٹھری اس سے بچنے کی دعا کریں۔اور ہر وہ قوم جو گمراہ ہو گئی اور اپنی بعض نیکیاں بھی قائم رکھیں لیکن بعض بدیوں میں بھی مبتلا ہوئی۔اچھے برے کو ملا دیا۔اور اس طرح خدا نے انہیں گمراہ قرار دیا خواہ وہ مشرق کی قوم ہو یا مغرب کی قوم ہو۔خواہ وہ اسلام سے باہر ہو یا مسلمانوں کے اندر ہو، ہر ایسی قوم سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔پس مسلمانوں میں بھی اگر کچھ ایسے لوگ ہوں جو وہ عمل کریں جو مغضوب بتانے والے ہوں تو غیر المغضوب علی کی دعا ان پر بھی صادق آتی ہے اور ان