ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 158

158 سوچیں تو یہ سوچیں کہ گویا یہود کا ذکر چل رہا ہے اور ضالین کی بات کریں تو ذہن میں عیسائیوں کی تاریخ کو لے آئیں لیکن یہ بات اتنی سادہ اور ایسی آسان نہیں اور اس طرح یکلخت اور یکدفعہ کسی ساری کی ساری قوم کو مغضوب قرار دینا درست نہیں اور کسی ساری کی ساری قوم کو ضالین قرار دینا بھی درست نہیں ورنہ یہ بات قرآن کریم کے بعض بیانات سے متصادم ہو جائے گی، ان بیانات سے ٹکرا جائے گی۔کیونکہ یہی وہ کتاب ہے جس میں بہت سے یہود کی بہت بڑی بڑی تعریفیں فرمائی گئی ہیں اور ان کو خدا کے نیک بندے قرار دیا گیا ہے۔یہی وہ کتاب ہے جس نے بہت سے عیسائیوں کی بہت تعریفیں فرمائیں اور انہیں خدا کا عابد زاہد بندہ قرار دیا۔ایسے بندے جو خدا کی خاطر دنیا تیج کے ایک طرف چلے گئے اور عمر بھر عبادات میں صرف کر دی۔پس ایسی کتاب کے مضمون کو اس رنگ میں سمجھنا کہ اس کتاب کے دوسرے مضمون سے ٹکرانے لگے درست نہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ مغضوب علیھم کے رستوں سے ہمیں بچا تو یہود کی بات ان معنوں میں سوچتے ہیں کہ یہود قوم میں بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے شروع تاریخ سے ہی ایسی غلطیاں کیں جو خدا کے غضب کا نشانہ بنانے والی بھی تھیں اور دنیا کے غضب کا نشانہ بنانے والی بھی تھیں۔پس یہود سے نہیں بلکہ ان بار بار ٹھو کر کھانے والوں اور غلطیاں کرنے والوں کی راہ سے بچانے کی دعا ہے جو خدا کے غضب کا اور بنی نوع انسان کے غضب کا نشانہ بنے ہیں۔پس ان مکروھات سے بچنے کی دعا ہے جو مکروهات خدا کے غضب پر فتح ہو جاتی ہیں اور اسی طرح ان غلطیوں اور ٹھوکروں سے بچنے کی دعا ہے جن میں عیسائی قوم بحیثیت قوم مبتلا ہوئی اور خدا کے ایک عاجز بندے کو خدا کا بیٹا بنا بیٹھی لیکن خودان میں بہت سے نیک لوگ بھی ہیں۔قرآن کریم کے بیان کے مطابق ایسے نیک لوگ بھی ہیں جب وہ خدا کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں۔ان کے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔وہ خدا کے حضور اٹھ کر گریہ وزاری میں جھک کر اس کے حضور عبادت کرتے ہوئے راتیں گزارتے ہیں۔ایسے گروہ یہود میں سے بھی ہیں اور نصاریٰ میں سے بھی ہیں۔