ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 147
147 تمام نوروں کا جو سرچشمہ ہے اس کے نور کا ایک معمولی حصہ اس خوبصورت دن یا اس حسین رات کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا تمام جہان ساری کائنات یوں لگتا ہے ایک آئینہ بن گئی ہے جس میں ہمیں خدا کا حسن دکھائی دینے لگا ہے۔پس حمہ کی نفی اور حمد کا اثبات یہ دونوں چیزیں بیک وقت موجود رہتی ہیں۔غیر اللہ میں محمد ہوتی ہے کیونکہ اسی نے پیدا کی ہے لیکن اگر اس کی پیدا کردہ چیزوں تک محمد ٹھہر جائے تو وہ غفلت کی زندگی ہے جو بعض دفعہ شرک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ایسی غفلت کی زندگی ہے جو بعض دفعہ نہیں بلکہ بسا اوقات شرک میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اگر خالق کے حسن کی طرف نگاہ آگے چل پڑے اور انسانی محبتوں کا جلوس آگے قدم بڑھائے اور خدا کی طرف حرکت کرنے لگے تو پھر یہ ایک عارفانہ زندگی ہے۔انبیاء کی راہوں کو تلاش کریں پس سورۂ فاتحہ پڑھتے وقت جب آپ ان راہوں پر چلیں تو میں جیسا کہ بیان کر چکا ہوں انبیاء کی راہوں کو تلاش کریں اور انبیا کی دعائیں خود بھی سیکھیں اور ان پر غور ریں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں۔پھر اسی طرح شیر منصوب کنیم کی آیت ہے۔جن لوگوں کی راہ آپ نہیں دیکھنا چاہتے ان کی تاریخ قرآن کریم میں لکھی ہوئی ہے۔کن کن راہوں سے وہ گزرتے تھے۔بظاہر کتنے عظیم الشان فتح یاب دکھائی دیتے تھے۔جن کے بڑے بڑے قلعے تھے اور بڑی بڑی حکومتیں تھیں اور ان کے بڑے بڑے دبدبے تھے جن سے انسان دور دور تک لرزے کھانا تھا اور انہوں نے بڑی جنتیں بنا رکھی تھیں لیکن وہ ساری رفتہ رفتہ مٹ گئیں۔تہہ خاک ہو گئیں اور سوائے تاریخ کے ان کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ان کی قبروں سے پھر کچھ اور نادان قومیں اسی طرح اُٹھیں اور پھر انہوں نے دنیا کی بڑی بڑی نعمتیں حاصل کیں مگر خدا سے تعلق نہیں جوڑا۔پھر وہ بھی صفحہ ہستی سے مٹادی گئیں اور عجیب بات ہے کہ گو نیک لوگ بھی بظاہر صفحہ ہستی سے غائب ہوئے لیکن تاریخ میں نیکوں کا ذکر پیار اور محبت اور دعاؤں کے ساتھ جاری رہا اور آخر تک ان پر سلام بھیجے گئے لیکن یہ جو پہلی قسم کی قومیں تھیں