ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 148 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 148

148 جن کی بڑائی اور عظمت وقتی طور پر تھی اور خدا سے تعلق کے نتیجے میں نہیں بلکہ دنیا سے محبت کے نتیجے میں ان کے مٹنے کے ساتھ ان کی حمد بھی مٹ گئی اور ان کی برائیاں باقی رہ گئیں اور مورخین نے پھر ان پر لعنتیں ڈالنی شروع کیں کہ وہ ایسے ظالم ایسے سفاک تھے۔ان کی عظمتوں میں ہمیشہ کوئی بدی دکھائی دے گی۔پس خدا تعالٰی نے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ بھی خوب کھول دی ہے اور مَغْضُوب علی کی راہ بھی خوب کھول دی ہے اور قرآن کریم میں اس کا وضاحت سے ذکر موجود ہے۔پس آج کل رمضان میں خصوصیت کے ساتھ اپنے گھروں میں اس مضمون کو جاری کرنا چاہئیے اور اس دلچسپ مضمون کے ذریعے اپنے بچوں کی علمی اور اخلاقی اور عملی تربیت کرنی چاہیے۔قرآن کریم ایک موقعہ پر فرماتا ہے۔ويَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلى يَدَيْهِ يَقُولُ لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلا يو يلى ليتني لمُ اتَّخِذْ فَلَانًا خَلِيلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَاء جاءني ، وكَانَ الشَّيْطَنُ لِلإنْسَانِ خَذَ وَلا - وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ اِن قومى اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (سورة الفرقان : آیات ۲۸ تا ۳۱) اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے گا کہ جب ظالم اپنے انگلیوں کے پورے تکلیف اور بے چینی اور بے قراری اور حسرت کے ساتھ چہائے گا۔يَقُولُ يليتَنِي اتَّخَذَتُ مع الرسول سبيلاً کہے گا کہ اے کاش میں اپنے رسول کے ساتھ راہ اختیار کرتا۔اس راہ پر پڑتا جس راہ پر رسول چلا تھا اس لئے یہ جو ذکر میں کر رہا ہوں یہ صرف تاریخی ذکر نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جس راہ پر چلے ہیں وہ راہ آج ہمارے لئے محفوظ کر دی گئی ہے اور اس کو ہم صراط مستقیم کہتے ہیں پس صرف دعاؤں کی حد تک نہیں بلکہ روز مرہ کی عملی زندگی میں آج بھی ہمیں اس رسول کے ساتھ سفر اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو قرآن کریم فرماتا يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کاٹے گا۔اور کہے گا کہ کاش مجھے رسول کی معیت حاصل ہوتی اور میں اس پر چلتا جس راہ پر رسول ہے