ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 129

129 سورۂ فاتحہ میں تعارف فرمایا گیا ہے تو وہ اگر خدا تعالی کا فضل شامل ہو اور واقعتہ " وہ اپنے تعلق میں مخلص ہو تو انعمت علیھم میں شمار ہوگی۔لیکن ان کے اندر بھی استثناء ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔اس لئے ہمیشہ ہمیں مگر ان رہنا چاہیے اور اپنے نفس پر بھی نگران رہنا چاہیے اور بحیثیت جماعت اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں ، اپنے بچوں اپنے مردوں، عورتوں اور بوڑھوں سب پر نگران رہنا چاہئیے تو رمضان مبارک میں آپ جہاں دوسری دعائیں کریں گے وہاں سورہ فاتحہ کو پڑھتے ہوئے ان مضامین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔اپنے اندر ایک شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اپنے شعور کو ہمیشہ بیدار رکھنے کی کوشش کریں اور اپنے بھائیوں کے لئے کمزوروں کے لئے اور غافلوں کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کے اندر سے ایک باشعور انسان پیدا فرما دے جو خلق آخر کا آغاز ہو گا۔قرآن کریم نے جہاں خلق آخر کا ذکر فرمایا ہے وہ خلق آخر انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور اس کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے کہ ایک غافل انسان سے ایک باشعور انسان جنم لینے لگتا ہے۔وہ رفتہ رفتہ آنکھیں کھولتا ہے، کروٹ بدلتا ہے اپنے اندرونی ماحول کو دیکھنے لگ جاتا ہے، اس کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں۔آنکھیں ملتا ہے تو اور زیادہ روشنی دکھائی دیتی ہے۔اور وہ اپنے نفس کا شعور ہے جو رفتہ رفتہ عرفان باللہ میں منتقل ہو جاتا ہے اور انسان کے اندر سے ایک خلق آخر ظاہر ہوتی ہے۔پس اس رمضان میں خصوصیت کے ساتھ اپنے لئے یہ دعائیں کریں اور بنی نوع انسان کے لئے بھی یہ دعائیں کریں کہ وہ دعوے تو بہت کرتے ہیں اللہ ان کو بھی کوئی شعور تو عطا کرے۔دعا کریں اللہ امریکہ کو ظلم کی توفیق نہ دے میں نے گلف سے متعلق جو پچھلے خطبات تھے ان میں بڑے درد کے ساتھ بعض آنے والے خطرات کی نشان دہی کی تھی۔ان میں ایک یہ تھا کہ شرق اوسط سے امن ہمیشہ کے لئے اٹھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور جن خطرات کا اظہار کیا تھا وہ ابھی جیسے کہتے ہیں ناں کہ سیاہی ابھی گیلی ہی جو سوکھی بھی نہ ہو تو بات ظاہر ہونے لگ جائے ویسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔شام کے اوپر اسرائیل نے جنگ ختم ہوتے ہی یہ الزام لگانا شروع